تحریک اصلاح

 

نشاۃ ثانیہ اور اصلاح مذہب تحریک

               تیرہویں صدی عیسوی کے دوران یورپی معاشرے میں ایک عظیم فکری انقلاب شروع ہوا جسے نشاۃ ثانیہ(Renaissance)  یعنی نئی زندگی کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے ذریعے یورپ کے اہل علم نے یونانی و رومی تہذیب و تمدن کو ایک بار پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ شہنشاہ اور پوپ کی مطلق العنانیت کے خلاف صدا بلند ہونے لگے تاہم یہ احتجاجی لہر اس قدر خفیف تھی کہ اسے ایک نئے دور کا آغاز نہیں کہا جا سکتا تھا۔۱۴۵۳ء میں جب مسلمانوں نے قسطنطنیہ فتح کیا تو بہت بڑی تعداد میں یہاں سے یونانی فلسفے کے ماہرین نے یورپ کی جانب نقل مکانی کر لی اور کلاسیکی علم و ادب اور فلسفے کو ترویج و ترقی دی جس نے اس تحریک کو مزید جلا بخشی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک نشاۃ ثانیہ بڑی حد تک مسلمانوں کی مرہون منت ہے کیونکہ اگر عربوں نے یونانی ادب و فلسفے کو ترجموں کے ذریعے زندہ نہیں رکھا ہوتا تو وہ دنیا سے ناپید ہو جاتا۔ عہد وسطی کے دوران عربوں کے کیے تراجم نے ہی اس علمی ذخیرے کو محفوظ کیا جو بعد میں سولہویں اور سترہویں صدی تک یورپی تعلیم گاہوں میں پڑھایا جاتا رہا۔

نشاۃ ثانیہ کی تحریک اطالیہ سے نکل کر جلد ہی پورے یورپ تک وسیع ہو گئی جس کے نتیجے میں یونان و روم کے قدیم علوم سے مغربی معاشرے روشناس ہوئے اور پھر ان علوم و فنون نے لوگوں میں نئی تصورات بیدار کر دیئے جس سے ان کی زندگی کا زاویہ ہی تبدیل ہو گیا۔ تصور حیات کے متعلق لوگوں کی فکر و نظر میں تبدیلی آئی تو انہوں نے ہر شے کو ایک نئی جہت سے دیکھنا شروع کر دیا۔ بادشاہ و کلیسیا کے ظلم و استبداد کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی اور ان میں خود ارادیت کا حق اور عزت نفس کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ اس تحریک نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ایک نئی روح پیدا کی جس نےزمانہ وسطی کے فرسودہ افکار و تصورات  کو یکسر مٹا ڈالا۔

اصلاح مذہب کا آغاز

               نشاۃ ثانیہ نے یورپی انسان کے خاندان، نظام معاشرت اور مذہبی عقائد کے متعلق افکار میں گہرا اثر ڈالا اور کلیسیا کے جبر کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔  پوپ کی ذات کے خلاف سوچنا بھی جرم اور  گناہ تصور کیا جاتا تھا مگر اس تحریک نے پوپ کی ذات کو بھی موضوع بحث بنا دیا۔ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عہد وسطی میں لوگوں پر جو روایتی اور مذہبی قیودات نافذ تھیں وہ سب جہالت پر مبنی تھیں۔ ایسے نقادوں میں سب سے مشہور شخصیت اراسمس (Erasmus) نامی شخص کی ہے جس نے مذہبی دائرے میں رہتے ہوئے کلیسیا کے افعال و کردار پر نکتہ چینی کی۔  ۱۵۱۶ء میں اس نے عہد نامہ جدید کے لاطینی و یونانی نسخوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر اپنی تنقیدی یادداشت بھی مرتب کی چنانچہ اسے  بائبل کا پہلا نقاد بھی کہا جاتا ہے۔

               اصلاح مذہب کی تحریک کا چلن مذہبی ہونےکے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھا کیونکہ اس نے ایک طرف عوام کے اخلاق و کردار میں ایک نئی روح پھونکی تو دوسری طرف عیسائیت میں پوپ کے اقتدار کو چیلنج کر کے  اسے متنازع شخصیت بنا دیا۔ پوپ کو یورپی معاشرے میں اپنی برتری اور روحانی عظمت کا دعوے دار تھا، حکومت  کے داخلی و خارجی ہر طرح کے امور میں مداخلت کرتا تھا، اس کے اقتدار کو ہی یورپ سے برخاست ہونے پر مجبور کر دیا۔ پوپ کا یورپ میں اتنا اثر و رسوخ تھا کہ وہ اپنے مفادات کی خاطر ایک حکومت کو دوسری حکومت سے جنگ کروا دیتا تھا۔  صرف پوپ کو ہی یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ کلیسیاؤں کے لیے پادریوں کا تقرر کرے اور عوام پر ٹیکس لگائے۔ نشاۃ ثانیہ کے نتیجے میں جب پوپ کی ذات پر تنقید ہونا شروع ہوئی تو پھر یورپ کے بادشاہوں اور شہزادوں نے بھی پوپ کے اقتدار سے نجات حاصل کرنے کی تدبیریں کرنا شروع کر دیں۔

اصلاح مذہب کے اسباب

               نشاۃ ثانیہ کے نتیجے میں یورپی معاشرے میں جو ہمہ گیر تبدیلیاں ظاہر ہوئیں، ان میں سب سے زیادہ اہم تبدیلی عیسائیت اور کلیسیائی نظام سے متعلق تھی جس نے ایک طرف مذہب کے دائرہ کار کو محدود و مقید کر دیا تو دوسری طرف کلیسیائی نظام کی برتری و فوقیت کو اتنا شدید صدمہ پہنچایا کہ پھر وہ توانائی حاصل کرنے کے قابل نہ رہا

               عہد وسطی کے آخر تک پوپ اور پادری مذہبی پیشوا کے بجائے دنیاوی حکمران اور عیش و عشرت کے اسیر بن چکے تھے۔ ان کی خانگی زندگی بھی گناہ آلود ہو چکی تھی اور وہ معصیت کی دلدل میں بری طرح سے جا گرے تھے۔ پوپوں نے بہت سی عورتوں سے ناجائز تعلقات بھی قائم کر رکھے تھے جن سے ان کی ناجائز اولادیں بھی ہوتی تھیں اور انہیں پوپ کے بھتیجے کہا جاتا تھا۔ پوپ الیگزینڈر ششم اس وجہ سے مشہور تھا کہ وہ اپنے مخالفین کو زہر دے کر  قتل کروا دیتا اور ان کی جائیداد و املاک پر قبضے کر لیا کرتا تھا۔ یورپی معاشرے میں پوپ کی قائم کردہ مذہبی عدالتوں (Inquisition) نے الگ ظلم و استبداد  کا بازار گرم کر رکھا تھا  جس کے باعث یورپی مفکرین و دانش مند لرزہ براندام  ہو کر لوگوں کو چرچ اور پوپ کے اس وحشیانہ و ظالمانہ برتاؤ سے نجات دلانے کا سوچنے لگے۔ رفتہ رفتہ ارباب کلیسیا اور اہل دانش کا جھگڑا سخت تر ہو تا چلا گیا کیونکہ پوپ اپنی پوری طاقت کے ساتھ نشاۃ ثانیہ کے بطن سے جنم لینے والے ان مفکرین کے عقائد و نظریات کو مسترد کر رہا تھا مگر اس کے باوجود طبیعی علوم کو معاشرے میں فروغ اور ترقی مل رہی تھی جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ اہل کلیسیا کو اہل دانش کے آگے پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ مزید یہ کہ اہل کلیسیا کے شرم آور مظالم اور بیہودہ سختیوں کی وجہ سے اہل علم کا ایک گروہ فطری طور سے مذہب بیزار ہو گیا اور انہیں یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ مذہب عیسائیت جہالت کا طرف دار اور علم و دانش کا دشمن ہے۔

               تمام مذہبی اختیارات کا مرکز پاپائے روم کی ذات تھی ا ور اس کی نظر میں ہر وہ شخص مرتد اور خارج المذہب تھا جو پوپ اور کلیسیا کے ذہن سے بالا تر ہو کر سوچتا، لکھتا اور اپنے نظریات پیش کرتا تھا۔ ایسے شخص کو گرفتار کر کے محکمہ احتساب کے سامنے پیش کیا جاتا جہاں اسی سخت سے سخت سزائیں دی جاتیں۔ پوپ کی قائم کردہ اس عدالت نے اپنے قیام کے پہلے سال ہی دو ہزار سے زائد افراد کو زندہ جلانے کا حکم صادر کیا تھا اور دس سالوں میں ستر ہزار افراد نذر آتش کر کے ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیئے گئے۔ فرانس کی معروف حریت پسند خاتون ”جون آف آرک“ کو بھی محکمہ احتساب نے ۱۴۳۱ء میں زندہ جلانے کا حکم دیا تھا اور اس دور کے مایہ ناز سائنس دان برونو اور گلیلیو بھی اسی کلیسیائی عتاب کا شکار ہوئے۔

تحریک اصلاح کے معاشی و سیاسی اسباب

               عہد وسطی میں یورپ کی اکثر زرعی زمینوں کا مالک چرچ تھا اور ان زمینوں سے جو بھی آمدنی ہوتی تھی، اسے پوپ کے خزانے میں صدقے اور نذرانے کے طور پر جمع کروا  دیا جاتا تھا۔ یہ عمل یورپی حکمرانوں اور شہزادوں کے لیے اقتصادی اعتبار سے تباہ کن اور ناقابل برداشت تھا کیونکہ فطری طور پر وہ اس ٹیکس کی ادائیگی سے ناخوش تھے۔ اس کے علاوہ راہبوں کے ناجائز مطالبات اور بیگار لینے کے عمل سے عوام الناس بھی بیزار اور شاکی رہتے تھے جب کہ اپنی ذاتی زمینوں پر ان کی لگائی گئی سرمایہ کاری کے عیوض مال بھی بہت کم حاصل ہوتا تھا۔ تحریک اصلاح کے ان معاشی اسباب نے بہت جلد سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا۔ دوسری طرف پوپ یورپی بادشاہوں کے ہر حکم اور حکومت کے اندرونی معاملات میں دخیل ہونا اپنا حق سمجھتا تھا جب کہ پوپ کی مداخلت سے ان حکومتوں کا قومی وقار مجروح ہوتا اور انہیں یہ احساس ہوتا کہ وہ اپنے قومی مسائل کو  خود حل کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔ ان کی نظر میں پوپ کی بے جا مداخلت ناقابل برداشت تھی اور وہ اس عمل کو اپنے اقتدار کے لیے بھی خطرہ سمجھتے تھے۔ ان یورپی حکمرانوں نے جب معاشرے میں بڑے پیمانے پر قومیت کا جذبہ بیدار کر دیا تو ان کا اگلا ہدف اپنے علاقوں میں قائم گرجا گھروں کو قومی تحویل میں لینا تھا مگر ایسا کرنا پوپ کے وسیع اقتدار پر ضرب لگائے بغیر ممکن نہ تھا اس لیے یورپی حکمرانوں نے تحریک اصلاح کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

کلیسیائی نظام

               عالم عیسائیت نے مسیحی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کر  رکھا تھا اور یہ امتیازی تقسیم ”اہل دین“ (Clergy) اور ”اہل دنیا“ (Laity) کے نام سے تھی۔ مؤخر الذکر طبقے کی اخروی نجات کو اول الذکر طبقے کی دعائے مغفرت پر منحصر سمجھا جاتا تھا  جب کہ اہل کلیسیا نے اپنی فطری خواہشات کو دین کا لبادہ پہنا کر انہیں خداوند کی جانب منسوب کر رکھا تھا۔ پادریوں کے وضع کردہ ان قوانین کی مقبولیت و حیثیت عوام الناس کی نظر میں مشتبہ تھی اس لیے ناگزیر تھا کہ لوگوں کے دلوں میں پوپ کی روحانی و مافوق الفطرت عظمت کا سکہ بٹھا دیا جائے اور ایک مذہبی عقیدے کی حیثیت سے یہ بات لوگوں کے قلوب و اذہان میں راسخ کر دی جائے  کہ ”پوپ غلطی نہیں کر سکتا“۔ اگر چہ عہد وسطی کی چند صدیوں میں پادریوں کی یہ کوششیں کامیاب تو رہیں مگر یہ پائیدار ثابت نہ ہو سکیں۔ چونکہ عہد وسطی کا یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، قبائلی یورش، جاگیرداروں کے جھگڑے عام اور حکومتیں بہت کمزور تھیں جس کی وجہ سے اہل کلیسیا کو اپنی معاشرتی برتری برقرار رکھنے کا موقع مل گیا تھا اور وہ الٹے سیدھے قوانین کو معاشرے میں نافذ کر رہے تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

اہل اسلام کی طرف سے فیمی نزم کی تعبیرات کے اصول و قوانین

مسلم فیمینزم کی تشریحات

مارٹن لوتھرکی فکر