مسلم فیمینزم کی تشریحات

 






مسلم فیمی نزم کی تشریحات

مسلم فیمینزم

بیسویں صدی میں  مغرب سے اٹھنے والے متجدد تحریکوں میں سے مسلمانوں میں ایک نئی اصطلاح منظر عام پر آئی جسے ”مسلم فیمی نزم“کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے تحت مسلم خواتین نے بھی مردوزن کی مساوات کا ادعا کرتے ہوئے اسلامی تشریحات و تعبیرات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور خواتین سے متعلق مذہبی نصوص کی از سر نو تشریح کی۔اس تجدد کےباوجود ان عورتوں نےیہ گوارا نہ کیاکہ انہیں دائرہ اسلام سے باہر کیا جائے چنانچہ انہوں نےاس بات پراصرارکیاکہ ان کےافکار کو اسلامی ہی سمجھا جائے۔ امین احسن اصلاحی نے ان خواتین کے لیے ”مترجلات“ کی اصطلاح استعمال کی ہے جس سے مراد ایسی عورتیں ہیں جن کی دلچسپی عورت ہو کر مرد بننے میں ہے  جب کہ مودودی صاحب نے ایسی عورتوں کو ”نا عورت“ اور ”مکشوفات“ کا لقب دیا ہے۔ 

یہ اصطلاح سب سے پہلے ۱۹۹۰ کے دوران منصہ شہود پر آئی تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ کس کی اختراع ہے تاہم اسلام اور فیمی نزم ایسے متضاد اور متناقض الفاظ ہیں جس طرح سے اسلامی بینکنگ، اسلامی جمہوریت یا پھر اسلامی سود جیسے الفاظوں میں زبردستی اسلام کا سابقہ لگا کر انہیں مسلمان کیا گیا ہے۔ اس تحریک میں جو نام نہاد مسلمان عورتیں نمایاں ہیں ان میں مراکش سےتعلق رکھنے والی فاطمہ مرنیسی، ترکی سے تعلق رکھنے والی ہدایت تکسل، افریقی نژاد امریکی  آمنہ و د و د، پاکستانی   نژاد  امریکی رفعت  حسن، پاکستانی  نژاد  امریکی  اسماءبرلاس، سعودیہ سے تعلق رکھنے والی  فاطمہ   لسیف اور ایران سے تعلق رکھنے والی زیبامیر شامل ہیں اور ان سب عورتوں نے قرآن، تفاسیر اور علم فقہ کو اپنا ہدف بنا کر فیمینسٹ ادب مرتب کیا ہے۔ 

مسلم تحریک مساوات کے دعاوی

مساوات مرد و زن کی تحریک کے حامیوں کو انگریزی میں ”فیمی نسٹ“ جب کہ اس فکر سے وابستہ مسلمانوں کو ”مسلم فیمی نسٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کو ”آزادی ِ نسواں“ اور فیمی نسٹ تحریک بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ تحریک ایک مکمل تناظر کا نام ہے جس میں ہر شخص ہر مسئلے کو نسوانی تناظر میں دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ اس تحریک سے وابستہ مسلم افراد یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ

"مذہب کی تشریح کرتے ہوئے نسوانی نقطہ نگاہ سے غفلت برتی گئی ہے اور عورتوں کے احساسات کا رد کیا گیا ہے، مثلاً معاملہ تعدد ازواج کا ہو یا نکاح اور طلاق کے معاملات میں حقوق و فرائض کے تعین کا ہو، عورتوں کے حقوق کی نفی پدر سرانہ رویے کی علامت ہے اور بحیثیت انسان عورت کے جذبات کی نفی پر مبنی ہے۔ مرد خود کو عورتوں سے برتر خیال کرتے ہیں۔" 

عورتوں کے ان جارحانہ تقاضوں اور مطالبات کو  عرف عام میں نسوانی نقطہ نظر کہا جاتا ہے کہ عورتوں مردوں سے نجات حاصل کرتے ہوئے اپنی نظر و فکر اور خودی خود تراشنا چاہتی ہیں اور مردوں سے جارحیت اور مقابلے کا اظہار کرتی ہیں۔ رائج فکر ِ اسلامی اس قبیل کے لوگوں کی جدت پسندی اور مذہبی  روایتی اسلوب و منہج سے نفرت انگیزی کے سبب سے ان پر نقد کرتے ہوئے ان کےعورت ہونے کو ہی ایک طعن کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ جیسا کہ عطاءاللہ صدیقی نے لکھا ہے کہ

"تحریک نسواں کی علمبردارخواتین کو”عورت“کہناعورت کی توہین بلکہ معنوی تحریف ہے۔عورت کالغوی مطلب چھپی ہوئی،مجسم حیاہے۔مغربی عورت نےپردہ اورحجاب سےبہت پہلےآزادی حاصل کرلی تھی،مذکورہ تحریک کےزیراثرشرم وحیاکاچولابھی اتارپھینکاہے۔ضرورت اس بات کی ہےکہ ایسی عورتوں کےلیےکون سالفظ یااصطلاح استعمال کی جائے۔یہ ذمہ داری تودرا صل ان بیگمات کی تھی جومغربی فکرکےزیراثرہیں کہ وہ نسوانی تشخص سےجان چھڑانےکےبعداپنےلیےنیانام ایجادکریں۔ ویسےتوانکاذہن مختلف جدت طرازیوں اورروایتی اصطلاحات کےبجائےنت نئی جدت پسندیوں کی تحقیق کرتارہتاہےلیکن لفظ عورت کےمتعلق ان کی تخلیقی صلاحیت ابھی تک سامنےنہیں آئی۔وہ نجانے عورت جیسی شرمناک اوردقیانوسی اصطلاح اپنےلیےابھی تک کیوں گواراکیےہوئےہیں؟وہ محجوب ومستورہونےکواپنےلیےتوہین آمیزتصورکرتی ہیں۔انہیں چاہیےکہ وہ عورت کےلفظ کواستحصالی معاشرے کی اصطلاح سمجھتےہوئےکوئی نئی اصطلاح وضع کریں۔لگتاہےاس معاملےمیں وہ خودخاصی روایت پسندواقع ہوئی ہیں۔" 

سعدیہ شیخ کی تشریحات

یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن میں شعبہ مطالعہ مذاہب  کی پروفیسر سعدیہ شیخ بھی تحریک مساوات مرد و زن کی زبردست حامی ہیں اور اس تحریک کے اثبات اور اسے فکری دلائل فراہم کرنے کے لیے انہوں نے مسلمان صوفیاء کی تحاریر کا مطالعہ کیا اور نہایت عرق ریزی سے دلائل کو جمع کر کے انہیں مردوں کی تحقیر اور عورتوں کی فضیلت کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے متعدد مقالہ جات بھی تحریر کیے ہیں جن میں وہ یہ فکر پیش کرتی ہیں کہ اسلامی فقہ کی تدوین میں صوفیا نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے اور ایسی تشریحات کی ہیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے ”مسلم فیمی نزم“  یا اسلام سے مساوات مرد وزن کی جدید عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق 

"اگر صوفی وجودیات کی مدد سے مسلم قانونی فقہ پر فیمی نسٹ تنقید کی جائے تو اس طرح یہ کام اسلامی اخلاق کے دائرے میں بھی رہے گا اور فیمی نسٹ پراجیکٹ کامیاب بھی ہو جائے گا۔ تاہم وہ صوفی فکرکوبھی مکمل طورپراختیارکرنےپرراضی نہیں ہیں کیونکہ اس کے بقول مرکزی صوفی مفکر امام غزالی رحمہ اللہ نے فقہ کے قانونی نقض کو واضح کیا ہے لیکن ساتھ ہی عدل کا ایسا تصور دیا ہے جس سے مردانہ غلبے کو جواز ملتا ہے۔ یوں دیگر فیمی نسٹ لوگوں کی طرح سعدیہ شیخ بھی اپنی حمایت میں من پسند صوفیانہ رجحانات کو انتخاب کرنے کا اعلان کرتی ہیں۔" 

ان کے مطابق سابقہ ادور میں جو مسلمان خواتین صوفیا رہی ہیں، وہ شادی شدہ اور صاحب اولاد تھیں ہذا اپنے روحانی ارتقا کے باوجود وہ مکمل طور پر سماجی بندشوں سے آزاد نہ ہوں سکیں۔  گویا ان کی فکر کے مطابق یہ مسلمان عورتیں بھی مساوات مردوزن کی تحریک کے لیے بطور نمونہ و مثال پیش نہیں کی جاسکتیں کیونکہ یہ خواتین اپنی مذہنی تعلیمات اور سماجی روایات سے باغی نہ تھیں۔ مردوں کے غلبے اور مردانگی پسند سماجی روایات سے خلاصی حاصل کرنے والی صوفی عورتوں نے تعریف کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ان عورتوں نے مروجہ صنفی کرداروں کو رد کرکے آزادی حاصل کی اور مرد و زن دونوں سے ہی استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیم کو مکمل کیا۔ اس کا سبب وہ یہ بیان کرتی ہیں کہ صوفی ازم کسیفرد کے صنفی تشخص پر دھیان دینے کے بجائے اس کے باطن سے زیادہ بحث کرتا ہے۔ 

سعدیہ شیخ کی نظر میں ضروری ہے کہ ان صوفی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے ان حقائق کا ادراک کیا جائے جن کے ذریعے مردوں کے مذہبی روایتی غلبے کا ناقص کیا جائے تاکہ مسلم معاشروں میں مساوات مرد و زن کی فکر کو مروج کیا جائے۔  تحریک مساوات کے وہ مفکرین جنہوں نے مسلم فقہ پر تنقید کی ہے، انہوں نے ہیومن رائیٹس اپروچ کو اختیار کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ شریعت اور قرآن نے تو مرد و زن کو برابری کے اعتبار سے حقوق دیئے ہیں تاہم مرد فقیہوں نے ان شرعی نصوص کی تفسیر و تشریح اس انداز سے کی ہے  کہ ان خواتین کے حقوق پس منظر میں چلے گئے  اور وہ ان تمام حقوق سے یکسر محروم ہو گئیں۔  اس قبیل سے تعلق رکھنے والے مفکرین نے اس بات کو ہدف بنا رکھا ہے کہ کسی طرح قرآن و شریعت میں عورت کو ودیعت کردہ عورتوں کے حقوق کی بحالی کو کسی بھی طرح یقینی بنایا جا سکے۔ دوسرا گروہ فقہی ہیئتوں کی بنیاد پر اور فقہی اصولوں پر تنقید  کرتا ہے کیونکہ ان کے مطابق  حقوق پر مشتمل جدوجہد روایتی مذہبی اور فقہی ساخت کے انہدام کے لیے ناکافی ہے۔ 

ابن عربی کی تفاسیر سے استدلال

مروجہ تفاسیر اور فقہی اصولوں کو غلط قرار دینے کے لیے  مساوات مرد و زن کی تحریک کے حامیوں نے شیخ  محی  الدین  ابن   عربی کی تفاسیر سے کچھ امثال کو بطور استدلال بھی پیش کیا ہے جیسا کہ نسیان کا اثبات صرف مرد سے ثابت کرنے اور عورتوں سے اس داغ کو ہٹانے کے لیے  یہ قول نقل کیا جاتا ہے کہ نسیان تو صرف مرد کو لاحق ہوتا ہے جب کہ عورت حیرت میں مبتلا ہوتی ہے۔  اس ضمن میں وہ حدیث بیان کی جاتی ہے جس میں نبی اکرم ﷺنےحضرت آدمؑ کےنسیان کوبیان کیاہے۔اسی طرح سے جب قرآن مجید نے  دو عورتوں کے متعلق گواہی کا ذکر کیا ہے تو بتایا ہے اگرایک عورت بھول جائےتودوسری اسکویاددلادےلہذا دوسری عورت کوتویادہی رہتاہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ عورت نہیں بھولتی بلکہ مرد بھول جاتا ہے۔   تحریک مساوات کے حامی ابن عربی کے اس بیان کو بطور استدلال پیش کرتے ہوئے خواتین کی فوقیت و برتری کو ثابت کرتے ہیں اور اس تشریح کو ” بت شکن“ تشریح قرار دیتے ہیں جس سے نہ صرف عورتوں کی قانونی فضیلت و برتری ثابت ہوتی ہے بلکہ روایتی تفاسیر کا ذخیرہ بھی غلط ہو جاتا ہے۔ 

سترِ عورت کے حوالے سے مؤقف

مساوات مرد وزن کے حامیوں نے عورت کے ستر کے مسئلے پر بھی ابن عربی کے قول سے استدلال کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ صرف عورتوں کی شرم گاہ ہی ان کے ستر کا حصہ ہے۔ اس مسئلےکی وضاحت اس اندازسےکی گئی کہ جنت میں آدم و حوا کو ستر کے حوالےسےجوحکم دیاگیاتھاوہ صرف شرم گاہوں تک محدودتھا۔پس اگر کوئی عورت اپنے جسم کے بقایا حصے کو ڈھانپنے کی خواہش مند ہے تو یہ اس میں موجود شرم و حیا کا تقاضہ ہے اور شرم حیا مذہبی نہیں بلکہ سماجی مسئلہ ہے چنانچہ پردہ کرنے کا مذہب اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ 

مساوات پر مبنی تشریحات

ابن عربی کو بنیاد بناتے ہوئے تحریک مساوات کے مفکرین نے ابن عربی کی بہت سی تشریحات سے استفادہ کیا ہے اور عوامی دائرہ اکر میں عورتوں کے سر سے جنسیت کا الزام اتارنے کی کوشش کی ہے۔ ابن عربی کو بنیاد بناتے ہوئے عورت کے لیے امامت کرنے کا اثبات بھی کیا گیا ہے کیونکہ ابن عربی نے دیگر فقہا سے اختلاف کرتے ہوئے عورت کے لیے  اس کے روحانی کمال کی بنیاد پر امامت کے جواز کا بیان دیا ہے۔ 

ابن عربی کے علاوہ بھی متجدد مفکرین میں سے ایک مفکرہ نے یہ دعوی کیا ہے کہ اگرچہ مسلمان پدرانہ اجماع اور اجتماعی طور پر غیر ارادی غفلت کی وجہ سے بی بی مریم ؑ کو پیغمبر نہیں سمجھتے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بھی ایک پیغمبر ہی تھیں۔ اس قسم کے مفکرین کا طریقہ کار اس طرح سے ہے کہ وہ جدید تحلیلی و تجزیاتی طریقوں سے قرآنی متن کا از سر نو مطالعہ کرتے اور اسے پدر شاہی اور صنفی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ یہ دعوی کرتے ہیں  کہ قرآن پاک میں دیگر نبیوں کے لیے جو الفاظ وارد ہوتے ہیں، تقریباً وہی الفاظ بی بی مریم کے لیے بھی آئے ہیں یہاں تک کہ جس طرح دیگر نبیوں کے پاس جبریل ؑ فرشتہ گیا ہے اسی طرح ہے بی بی مریم کے پاس بھی وہ آئے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن پاک میں ان کو دیگر تمام عورتوں پر خاص فضیلت دی گئی ہے جس سبب  سےیقیناوہ بھی ایک نبیہ و پیغمبرہ ہیں۔ اس تحقیق کے ذریعے اس مفروضے اور خود تراشیدہ حقیقت کا اثبات مقصود ہے کہ قرآن مجید نے مساوات کی تعلیم دی ہے اور حضوراکرمﷺکی تعلیمات میں مساوات مرد وزن کوملحوظ خاطررکھاگیاہے۔

اس تناظرمیں دیکھاجائےتومسلمانوں نےمساوات مردوزن کی جو تحریک شروع کی ہے وہ اپنی ذات میں خود جدیدیت سے جنم لینی والی تحریک ہے  اور ہر مذہب کے متجددین کی خاص علامت یہ رہی ہے کہ لوگوں نے ہمیشہ قدیم اشیا کے لیے متبادل کو تلاش و تجویز کیا ہے جب کہ قدیم شے ایک سے زائد مقاصد کی تکمیل کا سبب ہو اکرتی تھی۔  صابر علی لکھتے ہیں کہ

"متجددین احوال اور تناظر کے بدلنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن نہ تو انہیں سابقہ احوال اور تناظرات کا مکمل فہم ہوتا ہے اور نہ ہی موجودہ تناظر اور احوال ان پر سارے کا سارا منکشف ہوتا ہے۔ احوال و تناظر بدلنے سے احکام بدلنے کی ضرورت تسلیم بھی کرلی جائےتویہ سوال پیداہوتاہےکہ تناظراتی تبدیلی کا علم کیسے ہوا؟ تناظراتی تبدیلی کی بات کرنے والے مفکرین کی اکثریت یہ بنیادی غلطی کرتی ہے کہ ہر تناظر کو دوسرے تناظر سے جوڑ کر نہیں دیکھتی۔ یعنی تناظرات کا بھی ایک تناظر ہوتا ہے جسے سمجھنے کے لیے اپنے تناظرسے نکلنا پڑتا ہے اور اپنے تناظر کی سمجھ دوسرے تناظر کی تفہیم کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ تناظر بذات خود ایک سماجی ڈھانچہ ہوتا ہے نہ کہ سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کا آلہ؛ تناظر بنایا نہیں جاتا بلکہ اسے اپنے اوپر بتایا جاتا ہے۔" 

اصولی طور پر دیکھا جائے تو تبدیلی و تغیر کا ہر عمل آن ہر لمحہ جاری رہتا ہے اور جب تک تبدیلی کا یہ عمل جاری رہے گا اس وقت تک ضروری ہے کہ احکام معطل رہیں کیونکہ بالیقین یہ کہنا مشکل ہے کہ عمل ِ تبدیلی اب اختتام پذیر ہو چکا ہے یا نہیں۔ تناظر کی تبدیلی کا تصور اس مفروضے پر قائم ہے کہ حال و ماضی کے مابین کوئی ربط موجود نہیں ہے اور موجودہ حال سابقہ حال سے یکسر جدا گانہ کیفیت رکھتے ہیں جب کہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ماضی کی تشکیل حال کو مد نظررکھ کراسکی روشنی میں کی جاتی ہے۔  اسکادوسرامطلب یہ نکلتاہےکہ ماضی پر جدید تصورات کو اٹھا کر اطلاق کیا جا سکتا ہے اور اس کو ایسے تجزیاتی طریقوں کے ذریعے سے جانچا جاتا ہے جن کا وجود ماضی میں عنقا تھا۔اس طرح سے مکمل طور پر ماضی کو مسترد نہیں کیا جاتا بلکہ ماضی کو مسخ کیا جاتا ہے تا کہ اس کے ذریعے تفہیم ِ حال کو ممکن بنایا جا سکے۔ یہی سبب ہے کہ روایتی عناصر کسی بھی معاشرے کے جدید ہونے میں ہمیشہ شامل رہتے ہیں۔ پس تناظر کی تبدیلی کا فہم میں بنیادی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایک تناظر کے فہم کو دوسرے تناظر پر منطبق کیسے کیا جائے بلکہ حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ اس تناظر کی تفہیم کس طرح سے کی جائے جس کا وجود نہیں اور وہ غائب ہے اور ایسے تناظر سے حاصل شدہ سبق  کو اس تناظر سے کیسے جدا کیا جائے۔

اسلامی جدیدیت کے بانی

مصر سے تعلق رکھنے عالم دین ”مفتی محمدعبدہ“ نے  اسلامی جدیدیت کی بنیادرکھی کیونکہ اس فکر کا تجزیاتی آلہ اور اساسی تصور ”اجتہاد“ ہے۔ متجددین اجتہادکو تقلید سمجھ کر نہیں مانتے بلکہ اسے وہ تجریدی طریقے کی حیثیت سے استخراجی منطقی طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تحریک مساوات کے جتنے مسلمان حامی ہیں وہ سبھی اپنا سارا زور اجتہاد پر صرف کرتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے وہ جنسی و اخلاقی احکامات کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ کبھی ان کابیانیہ یہ ہوتاہےکہ علمی طور پر یہ بات بالکل غلط ہےکہ فقہا نےاجتہادکےدروازےکوبندکردیاہے اور ان کا ایسا کرنا درحقیقت ظلم کے مترادف ہے۔ کبھی متجددین کا دعوی ہوتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ تو قیامت تک کے لیے کھلا ہواہے اور احکام کی تبدیلی کے لیے اجتہاد کا ہونا نا گزیرہے چنانچہ اس کو بطور آلہ استعمال کیا جائے۔ مزید ان کا نظریہ یہ ہے کہ عد ل کو اسلام میں مرکزی و خاص اہمیت حاصل ہے اور تقاضائے عدل یہ ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اجتہادکرنےکاحق حاصل ہوچنانچہ عورت بھی اجتہاد کر سکتی ہے اور اس کا اجتہاد مردوں کے لیے قابل قبول نہ ہو مگر عورتوں کے لیے تو ہر حال میں قابل قبول ہو گا اوراگرعورت اجتہادمیں غلط ہوجائےتوبھی اس کوایک نیکی مل ہی جائےگی۔ تاہم یہ دعوی صرف مسلمانوں کا ہے جو مساوات مردوزن کے قائل ہیں جب کہ دوسری طرف سیکولر اور لبرل مساوات کے حامی افراد اس کو نہیں تسلیم کرتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عورتوں میں مساوات کا وہی تصور ترویج پا سکتا ہے جسے اسلام کے لبادے میں پیش کیا جائے اور یہ گروہ چونکہ اسلام کو دین اعتدال اور مساوات کا حامی بنا کر پیش کرتے ہیں لہذا اس وجہ سے وہ اپنی تعبیرات کےذریعے اسلام کا ایک جدید ورژن پیش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اسلامی متون و تواریخ کا تحقیقی مطالعہ بھی کرتے ہیں تاکہ اسلامی تناظر میں مساوات مرد وزن کے دلائل فراہم کیے جا سکیں۔   جب اسلام و فیمینزم کو دو متباین اشیا قرار دیا جائے تو اس وقت تحریک مساوات کے حامی شدید ناراض ہوتے  اور اس روش کو شرپسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ صابر علی متجددین کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ

"عمومی جدیدیت کی طرح اسلامی جدیدیت بھی سیکولرازم، مذہب کو نجی معاملہ بنانے اور مذہب کی انفرادی تشریح کی راہ ہموار کرتی ہے جس کا دوسرا نام اجتہاد رکھ لیا جاتا ہے۔ چوں کہ اجتہاد وہیں ہوتا ہے جہاں براہ  راست احکام دستیاب نہ ہوں اس لیے جب تناظر اور احوال کی تبدیلی مان لی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ احکام تو صرف ماضی کے احوال اور تناظر کے لیے تھے، ان نئے تناظر میں انہیں معطل سمجھا جائے لہذا جب احکام ہی نہیں رہے تو اجتہاد عام ہو گیا یعنی ہر مسلمان اپنے حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا مجاز ہے نہ کہ پہلے سے موجود کسی حکم کا۔" 

وہ مسلمان جو تحریک مساوات مرد و زن کے پرجوش حامی ہیں اور اس تحریک کے فکری نظریات کی ترویج و اشاعت کے خواہاں ہیں، وہ ہمہ وقت تین قسم کے کاموں میں مصروف ہیں جن میں ایک احادیث کےبالمقابل قرآنی آیات کو پرزور اندا ز میں پیش کرنا، دوسرا یہ کہ ایسی قرآنی آیات کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرنا جن میں کسی نہ کسی انداز میں مساوات کا ذکر پایاتا ہے، جب کہ سوم یہ کہ درجات اور فضیلت بیان کرنے والی آیات کی اپنے انداز میں نت نئی تعبیر و تشریح کرنا۔ 


Comments

Popular posts from this blog

اہل اسلام کی طرف سے فیمی نزم کی تعبیرات کے اصول و قوانین

مارٹن لوتھرکی فکر