Posts

Showing posts from May, 2024

مارٹن لوتھرکی فکر

Image
  مارٹن لوتھر کی فکر مارٹن لوتھر کا کاتھولک چرچ سے اختلاف                           مارٹن لوتھر اور کاتھولک کلیسیا میں نظریاتی اختلاف ۱۵۱۷ء میں شروع ہوا جب لوتھر نے پوپ کی جانب سے معافی ناموں کی فروخت کے خلاف آواز اٹھائی اور پوپ کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے پچانویں اعتراضات لکھ کر گرجا گھروں کے دروازوں پر آویزاں کر دیئے۔ لوتھر نے جو اعتراضات اٹھائے ان میں پادریوں اور عام لوگوں کے مابین فرق، صحائف مقدسہ کی تشریح  پر رومی کاتھولک کلیسیا کی اجارہ داری، معافی ناموں کی فروخت، نجات کی نوعیت سمیت متعدد معاملات پر مشتمل تھے۔                نجات کے متعلق لوتھر کی تفہیم کاتھولک عقیدے سے مماثل ہی تھی تاہم لوتھر اس معاملے میں کاتھولک سے زیادہ بنیاد پرست ثابت ہوا۔ لوتھر نے اس بات پر زور دیا کہ عیسائی نجات خدا کی جانب سے ایک ایسا تحفہ ہے جو انسانیت کو مفت میں ملتا ہے۔ مفت نجات کو بنیاد بنا کر ہی ...

تحریک اصلاح

Image
  نشاۃ ثانیہ اور اصلاح مذہب تحریک                تیرہویں صدی عیسوی کے دوران یورپی معاشرے میں ایک عظیم فکری انقلاب شروع ہوا جسے نشاۃ ثانیہ( Renaissance )  یعنی نئی زندگی کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے ذریعے یورپ کے اہل علم نے یونانی و رومی تہذیب و تمدن کو ایک بار پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ شہنشاہ اور پوپ کی مطلق العنانیت کے خلاف صدا بلند ہونے لگے تاہم یہ احتجاجی لہر اس قدر خفیف تھی کہ اسے ایک نئے دور کا آغاز نہیں کہا جا سکتا تھا۔۱۴۵۳ء میں جب مسلمانوں نے قسطنطنیہ فتح کیا تو بہت بڑی تعداد میں یہاں سے یونانی فلسفے کے ماہرین نے یورپ کی جانب نقل مکانی کر لی اور کلاسیکی علم و ادب اور فلسفے کو ترویج و ترقی دی جس نے اس تحریک کو مزید جلا بخشی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک نشاۃ ثانیہ بڑی حد تک مسلمانوں کی مرہون منت ہے کیونکہ اگر عربوں نے یونانی ادب و فلسفے کو ترجموں کے ذریعے زندہ نہیں رکھا ہوتا تو وہ دنیا سے ناپید ہو جاتا۔ عہد وسطی کے دوران عربوں کے کیے تراجم نے ہی اس علمی ذخیرے کو محفوظ کیا جو بعد میں سولہویں اور سترہویں ص...