مارٹن لوتھرکی فکر
مارٹن لوتھر کی فکر
مارٹن لوتھر کا
کاتھولک چرچ سے اختلاف
مارٹن لوتھر اور کاتھولک کلیسیا میں نظریاتی اختلاف ۱۵۱۷ء میں شروع ہوا جب لوتھر نے پوپ کی جانب سے معافی ناموں کی فروخت کے خلاف آواز اٹھائی اور پوپ کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے پچانویں اعتراضات لکھ کر گرجا گھروں کے دروازوں پر آویزاں کر دیئے۔ لوتھر نے جو اعتراضات اٹھائے ان میں پادریوں اور عام لوگوں کے مابین فرق، صحائف مقدسہ کی تشریح پر رومی کاتھولک کلیسیا کی اجارہ داری، معافی ناموں کی فروخت، نجات کی نوعیت سمیت متعدد معاملات پر مشتمل تھے۔
نجات کے متعلق لوتھر کی تفہیم کاتھولک عقیدے سے مماثل ہی تھی تاہم لوتھر اس معاملے میں کاتھولک سے زیادہ بنیاد پرست ثابت ہوا۔ لوتھر نے اس بات پر زور دیا کہ عیسائی نجات خدا کی جانب سے ایک ایسا تحفہ ہے جو انسانیت کو مفت میں ملتا ہے۔ مفت نجات کو بنیاد بنا کر ہی لوتھر نے معافی ناموں کی خرید و فروخت کی مذمت کی اور پادریوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوتھر نے یہ تصور پیش کیا کہ معافی ناموں کے بغیر بھی عیسائی خدا کی ابدی بادشاہت میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس نے حصول ِ نجات کے لیے شریعت کے احکامات پر عمل کے بجائے صرف یسوع مسیح کی نجات بخش صلیبی موت پر ”ایمان“ رکھنے کو ضروری قرار دیا۔ اس امر کو لوتھر نے فضل کا نام دیا اور یہ نظریہ بعد ازاں ”فقط ایمان“ (sola fide) کہلایا۔
فرانس سے تعلق رکھنے والے ماہر علوم الہیات، اور اصلاح پسند پادری جان کیلون(John Calvin) نے بھی کاتھولک کے برخلاف نجات کا تصور پیش کیا جب کہ لوتھر نے اس نظریے کو ہنوز برقرار رکھا کہ نجات مقید نہیں ہے بلکہ تمام لوگوں کے لیے یکساں دستیاب ہے۔ کیلون کے مطابق اس کائنات میں ہونے والے تمام امور خدا کی مرضی و منشا کے مطابق ہو رہے ہیں اور خدا نے کچھ افراد کو جنت میں جانے کے لیے جب کہ بعض کو جہنم میں جانے کے لیے بنایا ہے۔ دوسری طرف لوتھر کا خیال تھا کہ نجات دینا کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا کا کام ہے کیونکہ تمام انسان گناہ گار ہیں۔
فلسفہ نجات کے علاوہ کاتھولک اور لوتھر کے درمیان ایک اہم بنیادی فرق پوپ اور پادریوں کے اختیارات کی نوعیت پر تھا۔ کاتھولک کلیسیا کے مطابق صحائف کا تشریح کا حق صرف کلیسیا کو حاصل ہے جب کہ لوتھر کے مطابق ہر شخص آزاد ہے کہ وہ مقدس صحائف کو پڑھ کر اپنی تفہیم کے مطابق سمجھ سکے۔اسی وجہ سے کاتھولک کلیسیا کے مؤقف پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ کاتھولک صحائف مقدسہ کے ساتھ روایات کو بھی وہی تقدس کا درجہ دیتے تھے اور دونوں کو خدا کی جانب سے نازل شدہ سمجھ کر ان کی پابندی ناگزیر سمجھتے تھے۔ کاتھولک کلیسیا اپنے آپ کو واحد حقیقی کلیسیا سمجھتا تھا جس کی بنیاد خود یسوع نے رکھی اور اسی پر ایمان نجات کے لیے ضروری تھا جب کہ لوتھر نے اس سے شدید اختلاف کیا۔
ایمان کے ذریعے
نجات(Justification by
Faith)
مارٹن لوتھر نے مسیحی الہیات کی جو جدید فکر پیش کی تھی، اس نے کاتھولک کلیسیا کے خلاف چلنے والی تحریک اصلاح کو مؤثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ لوتھر نے بالخصوص ایسے موضوعات پر بحث کی جن کا تعلق براہ راست عقیدے سے تھا۔ ان عقائد میں شریعت اور انجیل کے مابین تعلق سمیت بہت سے دیگر مذہبی نظریات بھی شامل تھے جن پر لوتھر نے سیر حاصل کلام کیا۔ لوتھر نے نظریہ ”جواز“ (Justification) کو عیسائی عقائد کی مضبوط چٹان قرار دیا کہ تمام عیسائی نظریات کا سب سے اہم مضمون یہی عقیدہ ہے جو خدا پرستی کا کامل احاطہ کرتا ہے۔لوتھر کے بعد اس کے پیروکاروں نے بھی اس معاملے میں اس کی کامل اتباع کی کہ صرف ایمان کے ذریعے ہی فضل کا حصول ہو سکتا ہے جو کہ نجات کے لیے ناگزیر ہے اور صرف فضل ہی ہے جس پر باقی تمام تعلیمات کا انحصار ہے۔
لوتھر یہ نتیجہ نکالا تھا کہ ”جواز“ مکمل طور پر خدا کا کام(Work of God) ہے۔ اس کے دور کے عیسائیوں میں یہ فکر عام تھی کہ ایمان دار خدا کے فضل کو اپنی روح میں داخل کر کے پھر راست باز بنتے ہیں مگر لوتھر نے اس پر زور دیا کہ راست بازی کا حصول ایک خارجی عمل ہے اور یہ صرف مسیح کے ذریعے نہیں ملتی ہے بلکہ درحقیقت فضل مسیح کی راست بازی ہے اور یہ ہم سے باہر رہتی ہے لیکن جب ہم مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لے آتے ہیں تو اس ایمان کے وسیلے سے مسیح کا فضل ہم پر نازل ہوتا ہے۔ لوتھر نے اس پر بہت زور دیا ہے کہ صرف ایمان ہی ہے جس کے سبب سے خدا کا پاک روح عیسائی ایمان داروں پر نازل ہوتا ہے۔ اس طرح سے لوتھر ایمان کو خدا کی جانب سے ایک انمول تحفہ سمجھتا ہے کہ خدا کے فضل پر یقین رکھتے ہوئے عیسائی ایمان دار موت کے خطرے میں بھی کود جاتا ہے۔
لوتھر کے مطالعے اور تحقیق نے اسے رومی کاتھولک کلیسیا میں ”کفارہ“(penance) اور ”راست بازی“(righteousness) جیسی اصطلاحات کے عصری استعمال پر سوال اٹھا نے پر مجبور کر دیا۔ اسے یہ یقین ہو گیا تھا کہ کلیسیا نے ان تمام خواص کو کھو دیا ہے جن کے متعلق وہ یہ سمجھتا تھا کہ یہی عیسائیت کی بنیادی سچائیاں ہیں۔ سب سے زیادہ اہم لوتھر کے نزدیک ”عقیدہ جواز“ تھا جسے کاتھولک کلیسیا نے مسخ کردیا تھا چنانچہ لوتھر نے لوگوں کو یہ تعلیم دینا شروع کر دی کہ یسوع مسیح کی صلیبی موت کے ذریعہ نجات در اصل خدا کے فضل کا ایک تحفہ ہے جس کا حصول صرف یسوع پر ایمان رکھنے سے ہوتا ہے۔
۱۵۱۳ء سے ۱۵۱۶ء تک لوتھر نے بائبل میں شامل زبور کی کتاب اور رومیوں کے نام پولس کے خط پر متعدد لیکچرز دیئے ۔ ان تمام لیکچرز کا بنیادی پس منظر یہی تھا کہ اس تعلیم کے ذریعے خدا کے ہمہ جہت فضل اور مسیح کی شخصیت کے متعلق کامل آگاہی و بصیرت حاصل کی جائے۔
قانون اور شریعت
مارٹن لوتھر نے شریعت اور انجیل کے مابین تفریق کو ایک نئی جہت دی جو
بعد ازاں مسیحی کلیسیا کا خاصہ بن گئی۔ اس نے بائبل کی تفسیر اور
معانی کے لیے اصول بھی وضع کیے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ
“All Scripture ought to be distributed into these two principal topics, the Law and the promises. For in some places, it presents the Law and in others the promise concerning Christ, namely, either when [in the Old Testament] it promises that Christ will come, and offers, for His sake, the remission of sins, justification, and life eternal, or when, in the Gospel [in the New Testament], Christ Himself, since He has appeared, promises the remission of sins, justification, and life eternal.”
"تمام صحیفوں کو
ان دو بنیادی موضوعات، شریعت اور وعدوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے کیونکہ بعض مقام
پر یہ شریعت کو پیش کرتے ہیں اور بعض میں مسیح کی آمد کے متعلق وعدوں کو پس جب عہد
نامہ قدیم ہم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ مسیح آئے گا
تو درا صل اس وقت عہدنا مہ جدید لوگوں کے لیے گناہوں کی معافی، انصاف اور
ابدی زندگی کی پیشکش کرتا ہے۔ پس جب عہدنا مہ جدید میں مسیح خود ظاہر ہوتا ہے تو
وہ بھی گناہوں کی معافی، انصاف اور ابدی زندگی کا لوگوں سے وعدہ کرتا ہے۔"
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت اور انجیل کے مابین فرق یہ ہے کہ شریعت خدا کی مرضی کی اطاعت کا مطالبہ کرتی ہے جب کہ انجیل یسوع مسیح کی ذات اور معجزات کی روشنی میں گناہوں کی معافی کے وعدے کو کہتے ہیں۔ اسی لیے لوتھر نے یہ تعلیم دی کہ ہم یقین رکھتے ہیں، تعلیم دیتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ قانون اور شریعت کے مابین فرق کو کلیسیا میں بڑی مضبوط اور تندہی کے ساتھ برقرار رکھا جانا چاہیے۔ شریعت اور انجیل کے درمیان تفریق کا یہ نظریہ ایک طویل عرصے تک کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان وجہ نزاع بنا رہا۔ مارٹن لوتھر کی وفات کے دو سال بعد ۱۵۴۸ء میں مقدس رومی سلطنت کے بادشاہ چارلس پنجم نے کوشش کی کہ کسی طرح کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے اختلافات ختم کر کے انہیں ایک بار پھر یکجا کر دیا جائے مگر اس نظریے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا کیونکہ لوتھر کے ایک قریبی ساتھی اور اصلاح پسند فلپس میلنک تھون (Philipp Melanchthon) نے بادشاہ کے حکم نامے کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں اسے مختلف سزاؤں اور اذیتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
عالمگیر کہانت
پرانے عہد نامے کی تعلیمات کے مطابق پادری خدا اور لوگوں کے
درمیان ثالث کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ تمام مذہبی رسومات کی انجام دہی انہی
کاہنوں کے ہاتھوں مکمل ہوتی تھی جس کے عوض لوگ انہیں نذرانے اور تحائف پیش کیا
کرتے تھے۔ اسی فکر کو کاتھولک کلیسیا نے بھی صدیوں کے یورپ میں نافذ کیے رکھا اور
پادری حضرات لوگوں کے درمیان مذہبی خدمات اور رسومات کی ادائیگی کے لیے ہمہ وقت
تیار رہتے تھے۔ لوتھر نے عہد نامہ جدید کی بنیاد پر ایک اور نیا نظریہ پیش کیا اور
اسے پروان چڑھایا۔ یہ نظریہ ایک عالم گیر کہانت یا مذہبی پیشوائیت کا تھا جس میں لوتھر نے اپنے مطالعے کی بنیاد پر یہ
تسلیم کیا کہ عیسائیوں کے پادری اور عام لوگوں میں درجہ بندی کی تقسیم پطرس رسول
کی تعلیمات کے برعکس ہیں۔ اس ضمن میں اس میں عہد نامہ جدید میں شامل حواری عیسیٰ
جناب پطرس کے خط کو بطور دلیل پیش کیا کہ
“But you are a chosen people, a royal priesthood, a holy nation, God’s special possession, that you may declare the praises of him who called you out of darkness into his wonderful light.”
لیکن تم ایک برگزیدہ نسل۔ شاہی کاہنوں کا فرقہ۔ مقدس قوم اور ایسی امت ہو جو خدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ اس کی خوبیاں ظاہر کرو جس نے تمہیں تاریکی سے اپنی عجیب روشنی میں بلایا ہے۔ پہلے تم کوئی امت نہ تھے مگر اب تم خدا کی امت ہو۔ تم پر رحمت نہ ہوئی تھی مگر اب تم پر رحمت ہوئی ہے۔"
عالم گیر کہانت کا عقیدہ پروٹسٹنٹ ازم کے بنیادی تصورات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ مارٹن لوتھر نے تمام ایمان داروں کے لیے پادری کا لفظ قطعا استعمال نہیں کیا مگر ۱۵۲۰ء میں اس نے اپنی کتاب "The Christian Nobility of the German Nation" میں عام عیسائیوں کے لیے ایک عمومی کہانت کے تصور کا اضافہ کیا تاکہ قرون وسطی کے اس کاتھولک نظریے کو مسترد کیا جا سکے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو دو طبقوں ”روحانی“ اور ”سیکولر“ میں تقسیم ہونا چاہیے۔ لوتھر نے یہ فکر پیش کی کہ ہر وہ عیسائی جس نے یسوع مسیح کے نام کا بپتسمہ لے رکھا ہے، خدا کی نظر میں پادری اور ایک روحانی شخصیت ہے۔
لوتھر سے قبل عیسائیت میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ پادری اور
پوپ انسان کو خدا سے ملوانے میں ایک درمیانی وسیلہ ہیں اور ان کے بغیر خدا کے حضور
تک رسائی ممکن نہیں۔ چنانچہ عیسائی پادری کے سامنے حاضر ہوتے اور اپنے اور اپنی
اولادوں کے لیے ان سے دعائیں کرواتے اور نذرانے پیش کرتے۔ لوتھر نے اس تصور کے
ذریعے پہلی مرتبہ معاشرے میں یہ فکر پیدا کی کہ تمام عیسائی ایمان داروں کو براہ
راست خدا کے حضور تک رسائی حاصل ہے جس کے لیے انہیں یسوع مسیح کے علاوہ کسی اور
درمیانی کاہن کی ضرورت نہیں ہے جس کو وسیلہ بنا کر وہ خدا تک پہنچ سکیں۔ اس تصور
کی بدولت پادری کے بجائے ہر عیسائی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے
لیے دعا کرے اور دوسروں کو خدا کی راہیں سکھائے۔اس کی
تشریح کرتے ہوئے ایک عیسائی عالم رقم طراز ہیں کہ
"اس سے یہ عقیدہ مراد ہے کہ نئے عہد کے حامل خدا کے سارے لوگ ایک کہانت ہیں کیونکہ یہ یسوع مسیح میں، اس کے ساتھ اور اس کے وسیلے سے ہے جو حقیقی اور واحد کاہن ہے۔ مجموعی خدمت کے ساتھ یہ ایک شاہی اور پاک کہانت ہے۔۔۔ اس کا بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ کہانت کے تصور کو عہد سے منسلک کیا جائے اور پھر اس عقیدے کے مجموعی استحقاق کو، نئے عہد کے خدا کے ایمان دار لوگوں کی ذمہ داری کے طور پر اجاگر کیا جائے۔ من حیث الجماعت، ایمان دار خدا کے سامنے روحانی قربانیاں اور مناجات پیش کرتے ہیں اور مسیح کی شخصیت میں خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس طرح وفا دار ایمان داروں کی ہر مقامی جماعت کو عالم گیر کلیسیا کی ایک چھوٹی سی اکائی کی حیثیت سے کہانت جیسے فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔"
اگرچہ کہانت کا تصور بہت سے مذاہب
میں پایا جاتا ہے مگر پروٹسٹنٹ عقیدہ ایسی کہانت کو مسترد کرتا ہے جو ایک گروہ کو
مذہبی پیشواؤں کے طور پر پیش کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں لوتھر نے ایسے کاہنوں کو
قبول کرنے سے انکار کیا جو روحانی طور پر خود کو عام لوگوں سے الگ محسوس کرتے ہیں۔
لوتھر کی فکر کے مطابق ایسے پادری خدا کے خادم نہیں بلکہ پیشہ ور لوگ ہیں جنہوں نے
اس مقدس فریضے کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے اور اسی وجہ سے لوگ انہیں خدا کے خادم کے
طور پر نہیں بلکہ اپنے نوکر کے طور پر دیکھتے ہیں۔
لوتھر اور بائبل
روایتی طورپر مارٹن لوتھر بھی اس بات کا قائل تھا کہ پرانے و نئے عہد نامے میں تمام صحیفے الہامی ، خدا کی جانب سے نازل کردہ اور عیسائی علم عقائد کا واحد منبع و ماخذ ہیں۔یہ مقدس نوشتے ہی ہیں جو عیسائی ایمان کی بنیادیں فراہم کرتے ہیں اور انہی سے ایمان و اخلاق کے تمام معاملات کا پتہ چلتا ہے۔تاہم مارٹن لوتھر نے اتنا ضرور کیا کہ اس نے ان صحیفوں کے درجہ استناد کو چیلنج کر دیا۔ لوتھر نے لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ اگرچہ بائبل خدا کا لکھا ہوا کلام ہے اور ایمان و عمل کے لیے بے مثال رہنما کتاب ہے مگر یہ کتاب کسی پادری کی تشریح کی محتاج نہیں ہے کیونکہ ہر صحیفے کی عبارت کا مطلب و مراد واضح اور غیر مبہم ہے۔
بائبل مقدس کی بعض کتابوں کی الہامی حیثیت پر لوتھر کو شکوک و شبہات تھے اور اس نے ان کتب پر ذاتی تبصرے بھی کیے مگر اس کے باوجود ان کتب کو آج پروٹسٹنٹ کلیسیا استعمال کرتی ہے تاہم کاتھولک بائبل اور پروٹسٹنٹ بائبل میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ کاتھولک بائبل کے عہدنامہ عتیق میں شامل چھ کتابوں کو لوتھر نے الہامی حیثیت سے تو مسترد کر دیا تاہم ان کی تاریخی استناد کو تسلیم بھی کیا ۔ان کتب کو اپاکریفا(Apocrypha) یا مستند بدرجہ دوم کتب کہا جاتا ہے۔
مارٹن لوتھر نے نئے عہد نامے میں شامل عبرانیوں کا خط، یعقوب کا خط، یہوداہ کا خط اور مکاشفے کی کتاب کو ”متنازع کتب“ قرار دیتے ہوئے ۱۵۲۲ء میں کیے جانے والے اپنے ترجمے میں تو شامل کر لیا مگر انہیں عہد نامہ جدید کے بالکل آخر میں رکھا۔ لوتھر کی ترجمہ شدہ بائبل کے آخری حصے میں رکھی جانے والی ان کتب میں سب سے پہلے اس نے عبرانیوں کے نام خط کو رکھا اور اس حصے کے دیباچے میں تحریر کیا کہ اس وقت تک ہمارا تعلق عہدنامہ جدید کی حقیقی اور اہم کتابوں سے تھا تاہم ان چاروں کتب کی حیثیت زمانہ قدیم سے ہی مختلف رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی خیال پیش کیا ہے کہ ان کتب کے متعلق لوتھر کا نظریہ تاریخی بنیادوں کے بجائے مذہبی تحفظات کی وجہ سے تھا۔
کچھ محققین نے یہ دعوی کیا ہے کہ لوتھر نے یعقوب کے خط کی
الہامی حیثیت کو اس وجہ سے مسترد کیا ہے کہ یہ ایک غیر اصولی کتاب ہے اور یہ
الہامی ہونے کے اصولوں پر پورا نہیں اترتی ہے۔ عہد نامہ جدید پر لوتھر نے جو اپنا
دیباچہ لکھا ہے، اس میں لوتھر نے عہد نامہ جدید کی متعدد کتب کو نظریاتی قدر کے
مختلف زاویوں سے دیکھا ہے۔
“St. John's Gospel and his first Epistle, St. Paul's Epistles, especially those to the Romans, Galatians, Ephesians, and St. Peter's Epistle—these are the books which show to thee Christ, and teach everything that is necessary and blessed for thee to know, even if you were never to see or hear any other book of doctrine. Therefore, St. James' Epistle is a perfect straw-epistle compared with them, for it has in it nothing of an evangelic kind.”
"مقدس
یوحنا کی انجیل اور اس کا پہلا خط، مقدس پولوس کے خطوط بالخصوص وہ خط جو رومیوں،
گلتیوں اور افسیوں کی جانب لکھے گئے اور مقدس پطرس کے خطوط، یہ سب کتب صرف مسیح کی
ذات کو ظاہر کرتی ہیں اور آپ کو ہر وہ شے سکھاتی ہیں جو آپ کے لیے ضروری و برکت
والی ہے خواہ آپ نے اس کے متعلق کوئی دوسری کتاب نہ دیکھی ہو یا سنی ہو۔ پس مقدس یعقوب کا خط ان کے مقابلے میں
ایک بہترین خط ہے کیونکہ اس میں انجیلی
بشارت جیسی کوئی دوسرے شے نہیں پائی جاتی ہے۔"
الہام
لوتھر اس بات کا قائل تھا کہ عہدنامہ عتیق و جدید دونوں ہی خدا کا الہام اور کلام ہیں تاہم بائبل مقدس کے ان دونوں حصوں کی مختلف کتابوں پر لوتھر نے اعتراضات اٹھائے اور ان کی الہامی حیثیت کو مشکوک سمجھا۔ تاہم آج کے دور میں مارٹن لوتھر کا کوئی بھی پیروکار ایسے نظریات نہیں رکھتا بلکہ کاتھولک و پروٹسٹنٹ دونوں ایمان دار ہی یہ عقیدہ و ایقان رکھتے ہیں کہ بائبل کا ایک ایک حرف الہام شدہ ہے اور یہ پوری کتاب ہی خدا کا کلام ہے۔ ایک عیسائی عالم فریڈرک فرار (Frederic Farrar) کے مطابق مارٹن لوتھر نے الہام سے مراد کبھی یہ نہیں سمجھا کہ پاک صحیفے مکمل طور پر میکانکی انداز میں لکھے گئے ہیں بلکہ اس کے بجائے لوتھر کا خیال تھا کہ ان کتب کے مصنفین کے ذہنوں میں نجات کا علم تھا جو ان کے قلم کے ذریعے الہامی بن کر ظاہر ہوا اور خدا کا کلام بن گیا۔ یہ تمام تحریریں انسان کی ذاتی ملکیت تھیں اور کوئی ما فوق الفطرت عمل نہ تھا۔
پروٹسٹنٹ علماء نے الہام کی تعریف میں کرنے میں بہت زیادہ سوچ
بچار سے کام لیا ہےاور اس امر پر بہت زیادہ غور و خوض کیا ہے کہ کس انداز سے روح
القدس نے ان کتب کے مصنفین کے دلوں میں کلام کیا۔ بعض لوگوں کے مطابق خدا وند نے
انسان کو اس عمل میں مشین کی مانند استعمال نہیں کیا ہے کیونکہ انسان نہ ہی مشین
ہے اور نہ ہی اس بنانے والا اس سے مشین جیسا کام لے سکتا ہے بلکہ خدا نے اس مقصد
کے لیے پیغمبر بھیجے اور اپنا کلام ان کو سونپ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاک نوشتوں میں
بے شمار مقامات پر انسانی پہلو نمایاں نظر آتا ہے تاہم اس انسانی عنصر پر الہامی
عنصر غالب ہے۔پادری
جی ٹی مینلی لکھتے ہیں کہ
"بائبل میں ربانی اور انسانی عناصر ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بات ربانی ہے اور یہ انسانی۔ بعض اوقات بائبل کو مکاشفہ کی دستاویز کہتے ہیں اور بے شک یہ بات درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دستاویز بذات خود مکاشفہ کا الہامی حصہ ہے۔ اسی طرح اکثر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بائبل میں خدا کا کلام ہے اور یہ بھی سچ ہے لیکن حق تو یہ ہے کہ بائبل خود خدا کا کلام ہے۔۔۔خدا نے اپنے الفاظ انبیا کے الفاظ میں نہیں ملائے بلکہ اس نے انبیا کے وسیلے سے کلام کیا ہے۔ روح القدس نے اپنا پیغام دے کر یہ آزادی نہیں بخشی کہ وہ جیسے بھی مناسب سمجھیں اپنی مرضی سے اس میں ردوبدل کریں اور یہی صورت ہمارے لیے مفید ہے کیونکہ یہ جہالت کی انتہا ہو گی اگر ہم کہیں کہ گناہگار شخص یہ فیصلہ کرے کہ اتنا حصہ الہامی ہے اور یہاں سے انسانی حصہ شروع ہوتا ہے۔"
لوتھر کے پیروکار آج بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بائبل خدا
کا کلام اور خاص الخاص مکاشفہ ہے جسے خدا نے اپنے نبیوں اور رسولوں سے لکھوایا ہے۔
اس پوری مقدس کتاب کو خدا نے الہام کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنے خیالات، کلام
او ر وعدوں کا اظہار اپنے بندوں سے کر سکے اور وہ اس کو تحریری صورت میں نسل در نسل
محفوظ کر لیں۔ پس بائبل خدا کا خاص الہام ہے جس سے قلم بند کرنے والے مصنفین اگرچہ
انسان تھے مگر انہیں یہ سب لکھنے کی تحریک خدا کی جانب سے ملی تھی۔ اسی وجہ سے
بائبل میں ایک وزن اور طاقت پائی جاتی ہے جسے اختیار کہا جاتا ہے۔ کتاب مقدس کے
پیچھے کائنات کا مالک اور قادر مطلق خدا وند کریم خود کھڑا ہے اور جب وہ بولتا ہے
تو اس کے کلام سے اس کے قدرت و اختیار کی جھلکیاں صاف نظر آتی ہیں۔فادر
جوش میکڈوول لکھتے ہیں کہ
"خدا نے بڑی احتیاط کے ساتھ ہزاروں برسوں کے عرصہ میں اپنے کلام کو چند مخصوص افراد پر ظاہر کیا تا کہ وہ اس کے خیالات اور پیغام کو بڑی عرق ریزی کے ساتھ صفحہ قرطاس پر منتقل کریں اور اس دوران خدا نے خود اس پورے عمل کی نگرانی فرمائی تاکہ عین وہی بات ضبط تحریر میں لائی جا ئے جسے وہ لکھوانا چاہتا تھا۔ اور ہمارے پاس کتاب مقدس کی صورت میں ان سب باتوں کا ایک مستقل ذخیرہ موجود ہے۔"
عقیدہ
انصاف
مارٹن لوتھر نے کاتھولک کلیسیا سے اختلاف کرتے ہوئے جو نظریات پیش کیے، ان میں انصاف کے عقیدے کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ لوتھر کا اس بات پر ایمان تھا کہ انسان اپنے گناہوں سے نجات شریعت پر عمل کر کے نہیں بلکہ صرف خدا کا فضل(Sola Fide) پا کر اور یسوع مسیح پر ایمان رکھ کر ہی نجات پا سکتا ہے۔ لوتھر کے مطابق پوری کتاب مقدس کا انحصار اسی عقیدے پر ہے کیونکہ لوتھر کے بعد اس کے افکار و نظریات کی بنیاد پر قائم ہونے والے پروٹسٹنٹ چرچ کے علوم الہیات میں یہ بات شامل ہے کہ خدا نے اس دنیا کو انسانیت اور تقدس کے ساتھ گناہوں کے بغیر خلق کیا تھا مگر آدم اور حوا نے اپنے کمزور علم اور حکمت پر انحصار کرتے ہوئے خدا کے حکم کی نا فرمانی کی اور خدا وند کے جلال سے محروم ہو گئے۔آدم و حوا کی مبینہ نا فرمانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ گناہ عدم سے وجود میں آگیا جس کی وجہ سے ہر انسان پیدائشی اعتبار سے ہی گناہ گار پیدا ہوتا ہے کیونکہ گناہ اس کی فطرت میں شامل ہے اور اسی گناہ کی وجہ سے انسان اس قابل نہیں کہ دنیا میں رہتے ہوئے گناہوں سے بچ سکے۔ لوتھر کی نظر میں یہ ازلی گناہ ہی خدا کی نظر میں سب سے بڑا گناہ ہے اور دنیا میں ہونے والے تمام گناہوں کی بنیاد اور اصل اسی ازلی گناہ سے نکلتی ہے۔
مارٹن لوتھر نے لوگوں کو تعلیم دی کہ پیدائشی طور پر گناہ گار انسان اگرچہ اس قابل ہیں کہ وہ ظاہری طور پر ”نیک“ کام کر سکیں مگر ان میں اتنی قابلیت نہیں ہوتی کہ وہ خدا کے انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ہر انسان کی سوچ اور عمل گناہ اور گناہ کے محرکات سے متاثر ہوتا ہے۔اسی سبب سے تمام انسانیت جہنم میں ابدی سزا پانے کی مستحق بھی ہو گئی تھی۔مگر خدا نے اپنی رحمت و شفقت کو انسان کی جانب منتقل کیا اور اپنے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انسان کو اس ازلی گناہ سے چھٹکارا دینے کے لیے منصوبہ بندی کی کیونکہ خدا وند تمام انسانوں سے محبت کرتا ہے اور وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی بھی ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے۔
اس مقصد کے لیے خداوند نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو دنیا میں بھیجا تا کہ وہ انسان کو اس ازلی گناہ کی لعنت سے نکال کر شیطان کی طاقت سے نجات دلائے ،انسانیت کو خداوند کے راستے کی جانب لے جائے اور راست بازی، زندگی کے ساتھ بادشاہ کے طور پر ابدی حکمرانی کرے۔ لوتھر نے اس حوالے سے اپنی کیٹی کیزم میں نہایت تفصیل سے بحث کی ہے۔اسی وجہ سے لوتھر کے پیروکار بھی یہی تعلیم دیتے ہیں کہ نجات صرف خدا کے فضل کی وجہ سے ہی ممکن ہے اور خدا کا فضل مسیح کی پیدائش، زندگی، مصائب، موت، دوبارہ جی اٹھنے اور روح القدس کی طاقت کے ساتھ اس دنیا پر ظاہر ہوا۔
مسیح کی ذات اور معجزات میں خدا کا
فضل ظاہر ہوتا ہے اور تمام لوگوں کے گناہوں کو معاف کر کے انہیں ابدی نجات دے دیتا
ہے کیونکہ اپنی انسانی و الوہی دونوں
حیثیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے وہ خدا کے قانون کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔ "Formula of Concord" میں اس عقیدے کو تلخیص کی صورت میں کچھ اس طرح سے بیان کیا
گیا ہے کہ
“Christ submitted to the law for us, bore our sin, and in going to his Father performed complete and perfect obedience for us poor sinners, from his holy birth to his death. Thereby he covered all our disobedience, which is embedded in our nature and in its thoughts, words, and deeds, so that this disobedience is not reckoned to us as condemnation but is pardoned and forgiven by sheer grace, because of Christ alone.”
"مسیح نے
ہمارے لیے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کیا، ہمارے گناہوں کو خود پر اٹھا لیا اور
اپنے باپ کے پاس جانے کے لیے اپنی مقدس پیدائش سے لے کر اپنی موت تک، اس نے یہ سب
ہم غریب گناہ گاروں کے لیے کیا۔ اسی طرح
اس نے ہماری تمام نافرمانیوں پر پردہ ڈال دیا جو ہماری فطرت اور اس کے خیالات، قول
اور عمل میں سرایت کر گئی ہے تاکہ اس کی نافرمانی کو ہمارے لیے سزا نہ سمجھا جائے
بلکہ صرف مسیح کی وجہ سے سراسر فضل سے معافی حاصل کی جائے۔"
عقیدہ
تثلیث اور لوتھر
لوتھر تثلیث کا قائل تھا اور اس پر
ایمان رکھتا تھا۔ وہ اس کاتھولک فکر کو مسترد کرتا تھا کہ باپ خدا اور بیٹا خدا
ایک ہی ہستی کے دو پہلو ہیں بلکہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ عہد نامہ قدیم اور عہدنامہ
جدید دونوں ہی ان دونوں کو ایک الگ فرد ظاہر کرتے ہیں لہذا یہ ایک نہیں بلکہ دو
الگ ہستیاں ہیں۔لوتھر
کا عقیدہ تھا کہ روح القدس کا صدور باپ اور بیٹے دونوں سے ہوتا ہے۔آج بھی پروٹسٹنٹ
کلیسیا یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر چہ خدا کی ذات اقانیم یعنی تین مختلف شخصیات پر
مشتمل ہے مگر مجموعی اعتبار سے وہ ایک ہی ہستی کہلاتی ہے۔ تثلیث کا ہر اقنوم یعنی،
باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں اپنے کردار کے اعتبار سے جداگانہ شناخت اور حیثیت
رکھتے ہیں مگر اپنے جوہر میں وہ ایک ہی خدا کی فطرت رکھتے ہیں۔ فادر
جوش میکڈوول لکھتے ہیں کہ
"یسوع خدا کا الہی بیٹا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یسوع کو خدا نے خلق کیا تھا۔ در حقیقت کتاب مقدس ہمیں صاف صاف بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ سے باپ میں موجود تھا۔ یسوع نے خود بھی کہا تھا کہ میں ازل سے اپنے باپ کے ساتھ ہوں اور اس کے اسی دعوے کے سبب سے یہودی رہنماؤں نے اس پر کفر کا فتویٰ لگا کر یہ کہتے ہوئے اس کے خلاف قتل کی سازش کی تھی کہ وہ خدا کو خاص اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا ہے۔"
بپتسمہ
مارٹن لوتھر کا خیال تھا کہ بپتسمہ
خدا کی جانب سے ایک نجات بخش کام ہے جسے یسوع مسیح نے قائم کیاہے۔ بپتسمہ فضل کا
ذریعہ ہے جس کے ذریعے خدا نے نجات کے عقیدے کو پیدا کر کے مضبوط کیا ہے اور اسی کے
ذریعے وہ نسلوں کو پاک صاف کر دیتا ہے اور
اسی کے سبب سے شیر خوار اور نوجوان دونوں ہی ایک نئی پیدائش میں جنم لیتے ہیں۔ چونکہ
ایمان کی تخلیق خاص طور پر خدا کا کلام ہے اس لیے یہ بپتسمہ لینے والے کے اعمال پر
منحصر نہیں ہے خواہ وہ بچہ ہو یا بالغ۔ اگرچہ بپتسمہ لینے والے شیر خوار اس عقیدے
کو بیان نہیں کرسکتے مگر اس کے باوجود
لوتھر کے پیروکار یہ یقین رکھتے ہیں کہ بپتسمہ ہر عمر کے فرد کے لیے ناگزیر ہے۔یہ
صرف ایمان ہی ہے جو بپتسمہ جیسا خدائی تحفہ حاصل کر لیتا ہے لہذا لوتھر کے پیروکار
یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بپتسمہ گناہوں کی معافی کا کام کرتا ، موت اور شیطان سے
نجات دیتا اور ان تمام لوگوں کو ابدی ہلاکت سے نجات بخشتا ہے جو اس پر اسی طرح
یقین رکھتے ہیں جس طرح وہ خدا کے الفاظ اور وعدوں پر رکھتے ہیں۔
عدالت اور ابدی
زندگی
کاتھولک کلیسیا کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن یسوع مسیح جب دوبارہ اس زمین پر آئے گا تو ایک ہزار سالہ زمینی بادشاہت قائم کرے گا۔ لوتھر نے اس فکر کو مسترد کر دیا اور یہ تعلیم دی کہ مرنے کے بعد عیسائیوں کی روحیں فی الفور یسوع مسیح کی خدمت میں حاضر کر دی جاتی ہیں جہاں وہ آخری ایام میں یسوع مسیح کی آمد کا انتظار کرتی ہیں۔ جب قیامت کے دن یسوع کی آمد ہو گی تو پھر یہ سب مردہ پھر سے زندہ ہو جائیں گے۔ لوگوں کی روحیں ایک بار پھر ان کے جسموں سے مل جائیں گی اور وہ اسی حالت پر آجائیں گے جیسے مرنے سے پہلے تھے۔
اس کے بعد ان کے جسموں کو تبدیل کیا جائے گا اور جو بد کار لوگوں کے جسم ہوں گے انہیں عذاب کی حالت میں رکھا جائے گا جب کہ جو راست بازوں کے جسم ہوں گے انہیں آسمانی شان و شوکت کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس وقت تمام قومیں مسیح کے سامنے جمع کی جائیں گی اور وہ راست بازوں کو بدکاروں سے الگ کر دے گا۔
.jpg)
Comments
Post a Comment