Posts

مارٹن لوتھرکی فکر

Image
  مارٹن لوتھر کی فکر مارٹن لوتھر کا کاتھولک چرچ سے اختلاف                           مارٹن لوتھر اور کاتھولک کلیسیا میں نظریاتی اختلاف ۱۵۱۷ء میں شروع ہوا جب لوتھر نے پوپ کی جانب سے معافی ناموں کی فروخت کے خلاف آواز اٹھائی اور پوپ کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے پچانویں اعتراضات لکھ کر گرجا گھروں کے دروازوں پر آویزاں کر دیئے۔ لوتھر نے جو اعتراضات اٹھائے ان میں پادریوں اور عام لوگوں کے مابین فرق، صحائف مقدسہ کی تشریح  پر رومی کاتھولک کلیسیا کی اجارہ داری، معافی ناموں کی فروخت، نجات کی نوعیت سمیت متعدد معاملات پر مشتمل تھے۔                نجات کے متعلق لوتھر کی تفہیم کاتھولک عقیدے سے مماثل ہی تھی تاہم لوتھر اس معاملے میں کاتھولک سے زیادہ بنیاد پرست ثابت ہوا۔ لوتھر نے اس بات پر زور دیا کہ عیسائی نجات خدا کی جانب سے ایک ایسا تحفہ ہے جو انسانیت کو مفت میں ملتا ہے۔ مفت نجات کو بنیاد بنا کر ہی ...

تحریک اصلاح

Image
  نشاۃ ثانیہ اور اصلاح مذہب تحریک                تیرہویں صدی عیسوی کے دوران یورپی معاشرے میں ایک عظیم فکری انقلاب شروع ہوا جسے نشاۃ ثانیہ( Renaissance )  یعنی نئی زندگی کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے ذریعے یورپ کے اہل علم نے یونانی و رومی تہذیب و تمدن کو ایک بار پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی۔ شہنشاہ اور پوپ کی مطلق العنانیت کے خلاف صدا بلند ہونے لگے تاہم یہ احتجاجی لہر اس قدر خفیف تھی کہ اسے ایک نئے دور کا آغاز نہیں کہا جا سکتا تھا۔۱۴۵۳ء میں جب مسلمانوں نے قسطنطنیہ فتح کیا تو بہت بڑی تعداد میں یہاں سے یونانی فلسفے کے ماہرین نے یورپ کی جانب نقل مکانی کر لی اور کلاسیکی علم و ادب اور فلسفے کو ترویج و ترقی دی جس نے اس تحریک کو مزید جلا بخشی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک نشاۃ ثانیہ بڑی حد تک مسلمانوں کی مرہون منت ہے کیونکہ اگر عربوں نے یونانی ادب و فلسفے کو ترجموں کے ذریعے زندہ نہیں رکھا ہوتا تو وہ دنیا سے ناپید ہو جاتا۔ عہد وسطی کے دوران عربوں کے کیے تراجم نے ہی اس علمی ذخیرے کو محفوظ کیا جو بعد میں سولہویں اور سترہویں ص...

مسلم فیمینزم کی تشریحات

Image
  مسلم فیمی نزم کی تشریحات مسلم فیمینزم بیسویں صدی میں  مغرب سے اٹھنے والے متجدد تحریکوں میں سے مسلمانوں میں ایک نئی اصطلاح منظر عام پر آئی جسے ”مسلم فیمی نزم“کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے تحت مسلم خواتین نے بھی مردوزن کی مساوات کا ادعا کرتے ہوئے اسلامی تشریحات و تعبیرات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور خواتین سے متعلق مذہبی نصوص کی از سر نو تشریح کی۔اس تجدد کےباوجود ان عورتوں نےیہ گوارا نہ کیاکہ انہیں دائرہ اسلام سے باہر کیا جائے چنانچہ انہوں نےاس بات پراصرارکیاکہ ان کےافکار کو اسلامی ہی سمجھا جائے۔ امین احسن اصلاحی نے ان خواتین کے لیے ”مترجلات“ کی اصطلاح استعمال کی ہے جس سے مراد ایسی عورتیں ہیں جن کی دلچسپی عورت ہو کر مرد بننے میں ہے  جب کہ مودودی صاحب نے ایسی عورتوں کو ”نا عورت“ اور ”مکشوفات“ کا لقب دیا ہے۔  یہ اصطلاح سب سے پہلے ۱۹۹۰ کے دوران منصہ شہود پر آئی تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ کس کی اختراع ہے تاہم اسلام اور فیمی نزم ایسے متضاد اور متناقض الفاظ ہیں جس طرح سے اسلامی بینکنگ، اسلامی جمہوریت یا پھر اسلامی سود جیسے الفاظوں میں زبردستی اسلام کا سابقہ لگا کر انہیں مسلم...

اہل اسلام کی طرف سے فیمی نزم کی تعبیرات کے اصول و قوانین

Image
  اہل اسلام کی طرف سے فیمی نزم کی تعبیرات کے اصول و قوانین تفسیروتعبیر کے روایتی اصول سے بغاوت مساوات مرد و زن کے حامی مسلم مفکروں نے اپنے مؤقف کے اثبات کے لیے نہ صرف قرآن پاک کی مضحکہ خیز تفسیر کی ہے بلکہ تفسیر ِ قرآن ِ کریم کے مسلمہ اصول و ضوابط سے مکمل انحراف بھی کیا ہے۔ یہ لوگ مغربی عقیدہ ”مساوات مردوزن“ اور ”آزادی نسواں“ کو قرآن سے ثابت کرنےکےلیےکسی بھی حدتک جانےکےلیےتیارہیں اسی لیے وہ قرآن کودلیل کےطور پر استعمال کرتے ہوئے حقیقی تفسیر پر اپنی تاویلات کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس فکر کے حاملین کے نزدیک صرف قرآن ہی کامل شریعت ہے اور اس پر بھی وہ محض قرآنی الفاظ کو اہمیت دیتے ہیں اور ان الفاظ کے جدید معنی خود سے متعین کرتے ہیں جو کہ روایتی معنی سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ اس طرح سے مساوات مرد وزن تحریک کے مسلم مفکرین  خودکو صحابہ اور علما اسلام کے فہم دین کو مسترد کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف حدیث سے انکار کرتے بلکہ اجتہاد کا نعرہ لگا کر شریعت کے اصولوں کو بگاڑ دیتے ہیں  کیونکہ ان کا مطمع نظر احکامات دینیہ میں وسعت  کی تلاش کے بجائے صرف اس پر اضافہ کرنا ہے جب کہ شرعی...