مسلم فیمینزم کی تشریحات
مسلم فیمی نزم کی تشریحات مسلم فیمینزم بیسویں صدی میں مغرب سے اٹھنے والے متجدد تحریکوں میں سے مسلمانوں میں ایک نئی اصطلاح منظر عام پر آئی جسے ”مسلم فیمی نزم“کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کے تحت مسلم خواتین نے بھی مردوزن کی مساوات کا ادعا کرتے ہوئے اسلامی تشریحات و تعبیرات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور خواتین سے متعلق مذہبی نصوص کی از سر نو تشریح کی۔اس تجدد کےباوجود ان عورتوں نےیہ گوارا نہ کیاکہ انہیں دائرہ اسلام سے باہر کیا جائے چنانچہ انہوں نےاس بات پراصرارکیاکہ ان کےافکار کو اسلامی ہی سمجھا جائے۔ امین احسن اصلاحی نے ان خواتین کے لیے ”مترجلات“ کی اصطلاح استعمال کی ہے جس سے مراد ایسی عورتیں ہیں جن کی دلچسپی عورت ہو کر مرد بننے میں ہے جب کہ مودودی صاحب نے ایسی عورتوں کو ”نا عورت“ اور ”مکشوفات“ کا لقب دیا ہے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے ۱۹۹۰ کے دوران منصہ شہود پر آئی تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ کس کی اختراع ہے تاہم اسلام اور فیمی نزم ایسے متضاد اور متناقض الفاظ ہیں جس طرح سے اسلامی بینکنگ، اسلامی جمہوریت یا پھر اسلامی سود جیسے الفاظوں میں زبردستی اسلام کا سابقہ لگا کر انہیں مسلم...