اہل اسلام کی طرف سے فیمی نزم کی تعبیرات کے اصول و قوانین

 



اہل اسلام کی طرف سے فیمی نزم کی تعبیرات کے اصول و قوانین

تفسیروتعبیر کے روایتی اصول سے بغاوت
مساوات مرد و زن کے حامی مسلم مفکروں نے اپنے مؤقف کے اثبات کے لیے نہ صرف قرآن پاک کی مضحکہ خیز تفسیر کی ہے بلکہ تفسیر ِ قرآن ِ کریم کے مسلمہ اصول و ضوابط سے مکمل انحراف بھی کیا ہے۔ یہ لوگ مغربی عقیدہ ”مساوات مردوزن“ اور ”آزادی نسواں“ کو قرآن سے ثابت کرنےکےلیےکسی بھی حدتک جانےکےلیےتیارہیں اسی لیے وہ قرآن کودلیل کےطور پر استعمال کرتے ہوئے حقیقی تفسیر پر اپنی تاویلات کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس فکر کے حاملین کے نزدیک صرف قرآن ہی کامل شریعت ہے اور اس پر بھی وہ محض قرآنی الفاظ کو اہمیت دیتے ہیں اور ان الفاظ کے جدید معنی خود سے متعین کرتے ہیں جو کہ روایتی معنی سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ اس طرح سے مساوات مرد وزن تحریک کے مسلم مفکرین  خودکو صحابہ اور علما اسلام کے فہم دین کو مسترد کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف حدیث سے انکار کرتے بلکہ اجتہاد کا نعرہ لگا کر شریعت کے اصولوں کو بگاڑ دیتے ہیں  کیونکہ ان کا مطمع نظر احکامات دینیہ میں وسعت  کی تلاش کے بجائے صرف اس پر اضافہ کرنا ہے جب کہ شرعی اجتہاد کا مطلب یہ نہیں کہ شریعت پر ہی اضافہ کر لیا جائے۔ 
یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی پیدا ہوا کہ صنعتی انقلاب کے بعد پوری دنیا کی نظر و فکر اور طرز زندگی میں زبردست تبدیلی واقع ہوئی جس سے امت مسلمہ بھی متاثر ہوئی اور اسلامی تشریحات کے مسلمہ اصولوں پر لوگوں نے عدم اعتماد کرنا شروع کیا کیونکہ پرانی فقہ نئے طرز زندگی  اور لوگوں کی معاشرتی و اجتماعی زندگی کے جدید رویوں سے متعلق متعدد سوالات کا جواب دینے سے قاصر تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تشریح و تعبیر کی خامی پرانے اصولوں میں نہ تھی کیونکہ انسان دو سوسال بعد کے حالات کا نہیں سوچ سکتا چنانچہ مسلم فقہاسےیہ توقع رکھناہی عبث ہےکہ وہ کئی سوسال بعددرپیش ہونے والے واقعات کے متعلق بھی رہنمائی کریں۔ 
اسلامی علمیت کی تعبیر نو
تحریک مساوات کے حامیوں کو سب سے زیادہ تکلیف مسلم ذخیرہ حدیث سے ہوتی ہے جس کی وجہ سےانہوں نےحدیث کوخاص طورپرنشانہ تنقید بنایا ہے کیونکہ ان کے مطابق ان احادیث کی وجہ سے معاشرتی جزئیات کو بھی مسلمانوں نے دین کا حصہ سمجھنا شروع کر دیا ہے جو کہ درست علمی و دینی رویہ نہیں ہے۔  ایسے مفکرین کے نزدیک اگر حقوق نسواں کی تعبیر و تشریح کے لیے احادیث سے استدلال کیا جائے تو اس صورت میں مسلمان عورت کے مسائل حل ہونےکےبجائےمزید پیچیدہ اورالجھ جاتےہیں لہذاخواتین کےمعاشرتی مسائل کوحل کرنےکےلیےاحادیث سےدلیل نکالنا عدم اطمینان کا باعث ہے۔ مسلمان مفکرین کے نزدیک متجددین کا یہ موقف قابل تنقید و تشکیک ہے کیونکہ اگر یہ گروہ حدیث میں اختلافات نکالتا ہے تو پھر ایسے اختلافات تو قرآن مجید کی تعبیر میں بھی نکالے جا سکتے ہیں۔  جیسا کہ متجددین  نے محرم کی موجودگی کے بغیر عدم سفر کی پابندی والی مرفوع حدیث کی تعبیر کرتے ہوئے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ اس دور میں عورت کومحرم کےبغیرسفرکرنےسےاس سبب سےروکاگیاتھاکہ دوران سفر اسے صحرا و دشت و بیاباں سے گزرنا پڑتا تھا جہاں کوئی آدم یا آدم زاد نہ ہوتا تھا۔ اس صورت میں عورت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا مگر آج کے دور میں چونکہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور لوگ ہوائی جہاز اور یل گاڑی میں  سینکڑوں افراد کے ساتھ مل کر سفر کرتے ہیں تو اس صورت میں عورت کے لیے اکیلے سفر کرنے میں کوئی خطرہ مانع نہیں رہتا لہذا آج کے دور میں اگر کوئی عورت سفر کر بھی لیتی ہےتواس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔  حالانکہ ایسی  تشریح و تعبیر روایتی تشریح کے خلاف ہے او ر راسخ العقیدہ علما اس کو حدیث و سنت کی اتباع سے خارج قرار دیتے ہیں۔
اجتہادی صلاحیت سے محرومی
مساوات مرد وزن کی فکر کے حامیوں نے حقوق نسواں کے لیے دین کی جو جدید تشریح کی ہےاس میں مسئلہ یہ ہےکہ وہ تشریح تفسیرکےمسلمہ اصولوں سے عدم آگاہی کی بنا پر کی ہے۔ یہ لوگ دین میں تفقہ کا نعرہ تو لگاتے ہیں مگر فقہ کے اصولوں سے شناسائی نہیں رکھتے۔ یہ اجتہاد کے اگرچہ حامی ہیں مگر ان میں کوئی بھی وصف مجتہدین والا موجود نہیں ہے۔ جو میدان علما کی محنت کا ہے اسے انہوں نے اپنا مقصد حیات تو قرار دیا ہے مگر علما سے شدید پرخاش بھی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے حدیث، قول صحابہ و تابعین کی تفہیم سے بھی اعراض برتتے ہیں۔ یہ گروہ عورتوں کو ان کے حقوق دلوانے کا علمبردار ہونے کا دعوی تو کرتا ہے مگر درحقیقت یہ عورتوں کو ان کے حق سے محروم کرکے اس کی ذمہ داریوں  میں اضافہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ لوگ دوشیزاؤں کی حیا اور عصمت و آبرو کے حامی نہیں ہیں بلکہ یہ ایسی عورت کی فضیلت و عظمت کے گن گاتے ہیں جو خود کو مردانگی  صفت ظاہر کر کے اپنی قابلیت کو منوا سکے۔ 
اسی طرح سے ایک متجدد جسٹس صاحب نے سرگودھا بار کونسل میں ایک مرتبہ اجتہاد کے موضوع پر لیکچر دیا اور وکلا کے سامنے اجتہاد کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ اب ضروری ہے کہ اجتہاد کے لیے عربی دانی کی  قدیم شرط کا خاتمہ کر دیا جائے تاکہ وکلا  خود ہی ہر معاملے میں اجتہاد کر سکیں۔  اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر کوئی صاحب علم شخص یہ تصوربھی کرسکتاہےکہ کوئی شخص انگلش قانون میں ایم فل یا پی ایچ ڈی لیول کا تحقیقی مقالہ تو لکھ لے مگر وہ خود انگریزی زبان سے نا واقف ہو۔ تحریک تجدد و مساوات کے حامیوں کی مغربی فکر سے  مرعوبیت کے سبب سے ہی وہ ایسی جلوہ آفرینیاں کرتے ہیں۔ حالانکہ امام شافعیؓ کا قول ہے کہ
"اجتہاد کی اہلیت نہ رکھنے والا اگر اجتہاد کرے تو اس کی حیثیت اس اندھے کی سی ہے جو خود بھی راستہ نہیں دیکھ سکتا دوسرے کو کیا دکھائے گا۔ اس کے باوجود اگر وہ اجتہاد کرے تو گناہگار ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ زبردستی اسے اس کام سے روک دے۔" 
امت مسلمہ کے اجماعی مؤقف سے برات
تحریک مساوات کے حامی اگرچہ ظاہری طور پر تو قرآن مجید سے استدلال کرتے ہیں تاہم پس پردہ ان کا مقصد مغربی فکر اور مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ لوگ تعلیم قرآن کے شدت پسندی کی حد تک مخالف  اور امت کے اجتماعی و اجماعی مؤقف سے بےزار ہوتے ہیں۔ یہ قرآن کی باقی ماندہ تمام  تفاسیر کو مسترد کرتے ہوئے صرف اسی تعبیر کو دین سمجھتے ہیں جو نسوائیت پسندوں کی حمایت کرے اور مغربی فکر پر پوری اترے۔ جیسا کہ ایک مفکر لکھتے ہیں کہ
"ہم اتناعرض کیےبغیررہ نہیں سکتےکہ قرآن کومروجہ ترجموں کےساتھ پڑھ لینےسےقرآن سمجھ میں نہیں آسکتا،اگراس طرح قرآن سمجھ میں  آسکتاتو ہمارے علمائے کرام سےبڑھ کرقرآن سمجھنےوالااورکون ہوسکتاتھاحالانکہ حقیقت یہ ہےکہ یہ حضرات قرآن سےقطعاًنابلدہوتےہیں اورجس چیزکووہ قرآن کہہ کرپیش کرتےہیں اس میں قرآن کاشائبہ تک نہیں ہوتا۔" 
فکر ِ اسلامی کو طعن کا نشانہ بنانا اور علمائے  اسلام کی ان تھک کاوشوں کا رد کرنا در حقیقت خود انہی کی ذہنیت کو عیاں کرنے کا سبب بنتا اور ان لوگوں پر نقد کے دروازے کھول دیتا ہے جیسا کہ  محمددین قاسمی صاحب اس گروہ تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
"جی ہاں!قرآن بھلاترجموں اورتفسیروں سےکب سمجھ میں آسکتاہے؟پھربھلاقرآن کوسمجھنےکےلیے'قرآن' کی ضرورت بھی کیاہوسکتی ہے؟قرآن کوصحیح معنوں میں ان لوگوں نےسمجھاہےجوقرآن کومانناتورہاایک طرف جانتےتک نہیں ہیں۔اگرآپ بھی قرآن سمجھناچاہتے ہیں تو'ترجموں اور تفسیروں' کوگلدستہ طاق ِ نسیاں بناکر۔۔۔بلکہ خودقرآن کوبھی بالائےطاق رکھ کردانشوران مغرب کی قدم بوسی کیجیے۔آخرچارلس ڈارون نےجونظریہ ارتقاپیش کیاہےوہ قرآنی نظریہ ہی توہےجسے اس نےبغیرکسی قرآن کےپیش کیاہےاورپھرمغربی معاشرت کاپورانقشہ( جس کےاہم اجزا:مخلوط سوسائٹی،مخلوط تعلیم،ترک حجاب ونقاب،مردوزن کی مطلق اورکامل مساوات بلکہ اب اس سےبھی آگےبڑھ کر نظریہ افضلیت اناث،تعدد ازواج کی مخالفت وغیرہ ہیں) یہ سب کچھ اہل مغرب نےبغیرکسی قرآن ہی کےتوپایاہےجسےبعدمیں تعبیرنوکےجدیددانشوروں کوقرآنی اسنادفراہم کرنےکی زحمت گواراکرنی پڑی۔بس اب آنکھیں بندکرتےہوئےمغرب کی تقلیدکرتےجائیے یہی اتباع قرآن ہے۔یہی'تمسک بالکتاب'ہے یہی روشن خیالی ہےاوریہی عقل و فکرکےتقاضوں سےہم آہنگ روش ہے۔مولوی حضرات کاپیچھاچھوڑووگرنہ تمہیں ان اغلال واصرکا بھاری بوجھ اٹھاناپڑےگاجوقرآن و سنت پرمبنی عجمی اسلام کالازمہ ہیں۔" 
مغربی نقطہ فکر سے اسلام کی تعبیر نو
مساوات مردوزن کی تحریک نے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دلوانے کے لیے قرآن مجید کی تو جدید تعبیر مختلف رجحانات کا اظہار کرتے ہوئے کی ہے جس میں ایک رجحان یہ بھی ہےکہ ان لوگوں نے قرآن اور اسلام کو بھی دیگر مذاہب بالخصوص عیسائیت کے اصول مذہب کے مطابق جانچنے  کی کوشش کی ہے حالانکہ اسلام اور مغرب کے مقاصد میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔ اہل مغرب کے نزدیک قدرو قیمت کا معیار اسلامی معیار سے یکسر جداگانہ ہے جب کہ دوسری طرف مغرب میں جس اشیا کو مقصد حیات اور نہایت اہم سمجھا جاتا ہے ان کی قدر و اہمیت اسلام کی نظر میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ ایسے میں وہ شخص جو مغربی معیار کو ہی حق سمجھتا ہے، اسے اسلام کی ہر شے میں ترمیم کی گنجائش لگے گی اور اسلامی احکام کی تشریح کے دوران وہ لازما اس میں تحریف بھی کرے گا۔ 
اسی وجہ سے علما کرا م نے تفسیر اور تاویل کے درمیان گہری تفریق قائم رکھی ہے کیونکہ  تفسیر کے دوران منقولات پر اعتماد جب کہ تاویل کے دوران استنباط و استخراج پر بیانیہ لکھا جاتا ہے۔ تحریک مساوات کے حامی اس تفریق کو ختم کرکے من مانے طریقے سے تشریح کرتے ہیں ۔ عام طور پر یہ لوگ تاویل کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ جب تک وہ تاویل کو اختیار نہیں کریں گے ، اس وقت تک اپنی رائے کو دیگر آراء پر ترجیح دینا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ قرآن مجید کے ایک عام حکم کو خاص او ر  خاص کو عام کرنے میں بھی ید طولی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کسی مطلق معنی کو مقید کر دیتے ہیں تو کبھی لفظی دلالت کی ایک قسم کودوسری قسم میں تبدیل کردیتےہیں۔جیسا کہ اس حوالے سے افریقی نژاد امریکی فیمی نسٹ ”امینہ ودود“  نے لکھا ہے کہ
"بعض منفی اصطلاحات اگر قرآن میں کہیں استعمال ہوئی ہیں تو وہ عورتوں سے براہ راست یا بالخصوص متعلق نہیں اور اگر کہیں اتفاقاً کوئی منفی لفظ عورتوں کے حوالے سے بالخصوص استعمال ہواہےتواس کاہرگزمفہوم یہ نہیں کہ تمام عورتوں پر اس کا اطلاق ہو گا یا یہ کہ مرد اس سے مستثنی ہیں یا انہیں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح کے الفاظ اور دیگر مرکب جملوں اور تراکیب کو قرآن کے عمومی پیغام کی مثل قرار نہیں دیا جا سکتا یا اس کی جگہ نہیں رکھا جا سکتا۔" 
قرآن مجید کے ایسے مباحث جن میں جنسی امتیاز کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے واضح طورپر بیان کیا گیا ہے، امینہ ودود نے ان میں جنسی تفریق کو ختم کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے مختلف معاملات کو مخصوص فہم تک محدود کر دیا ہے حالانکہ اس سے قبل ان امور کو آفاقی سمجھا جاتا تھا۔ 
دینی تعلیم سے بے رغبتی
تحریک مساوات مردوزن کی زیادہ تر قیادت دینی تعلیم سے بے رغبتی رکھتی ہوئی معلوم  ہوتی ہے کیونکہ اس تحریک کو دنیا کے طاقتور عناصر کی پشت پناہی اور حمایت حاصل ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ عربی کے بجائے انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا طرز حیات مکمل طور پر مغربی ہوتا ہے۔ان کے افکار و نظریات بھی مغربی بالا دستی پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ایسے میں دنیا تو مغرب کا اقتدا چاہتی ہے مگر دین تو نام ہی اتباع ِ حق کا ہے اور یہ حق دلیل کاطلب کرتاہے۔اس تناظرمیں دیکھاجائےتومساوات مردوزن کی تحریک بھی محض ایک ظاہری علامت ہے اور باطنی اعتبار سے یہ دو نظریات کی کشمکش و جنگ ہے۔ اس کی مثال آنجہانی جنرل پرویز مشرف کے دور میں آنے والا ”تحفظ نسواں بل“ ہے جس کی حمایت کرتے ہوئے پرویز مشرف نے یہ کہا تھا کہ
“There are two roads one leading toward development, progress and prosperity and the other leading towards backwardness and destruction. It is a contest between religious radicalism and enlightened modernism.”
"حقوق نسواں  کی دو راہیں بنتی ہیں۔ ایک ترقی اور خوش حالی کی راہ ہے اور دوسری تباہی اور دقیانوسیت کی۔ یہ اب مذہبی انتہا پسندوں اور  اعتدال پسند روشن خیال نظریات کا اختلاف ہے۔" 
مساوات مردوزن کی بنیاد پر اسلامی ادب کی تشریحات جدید کرنے والے مفکرین کو قرآن کے اصول تفسیر کی مبادیات سے بھی آگاہی نہیں ہے۔ یہ لوگ حدیث پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور اسی طرح سے اجماع کو امت کے لیے حجت نہیں سمجھتے۔ ان کی زندگی کے معاشرتی رویوں میں دیکھا جائے تو یہ روایتی مسلمان معاشروں کے طرز زندگی سے بھی بیزار نظرآتےہیں کیونکہ یہ لوگ مکمل طورپرمغربی طرز ِ فکرکی اتباع کرتےہوئےفقہ اوراصولِ فقہ کوہوابردکردیتےہیں جب کہ زندگی کے چلن میں یہ لوگ امامت کے داعی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ دوسری جانب علمائے اسلام ہیں جو مسلمانوں کے عملی و فکری مسائل سے آگاہی رکھتے ہیں اور وہ ہدایت کے لیے مسلمانوں کو قرآن و سنت سے جوڑ کر رکھتے ہیں ۔  مسلمان معاشرے میں اگر عورتوں کی نسوانیت کو بالا ئے  طاق رکھ دیا جائے گا اور معاشرہ مادی منفعت کے حصول میں پڑ جائے گا تو ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ان کے پیش نظر صرف دنیا اور اس کی زندگی ہو اور لوگ اس دنیوی کامیابی کو ہی آخرت کی کامیابی پر ترجیح دیتے ہوں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
"ہماری فوری ضرورت یہ نہیں ہےکہ ہم عورتوں کےلیے قوانین وضع کریں جس سےعورتوں کامعاشرےمیں اثرورسوخ بڑھےبلکہ ضرورت اس بات کی ہےکہ ہم اصلی اورصحیح قسم کی اسلامی تحقیق کےذریعےسےعورتوں کےحق میں اسلام کےصحیح مؤقف سےآگاہ ہوں۔اسلام کی صحیح عملی اورعقلی واقفیت سےاپنےآپ کومسلح کریں تاکہ عالم انسان کاایک جزو ہونےکی وجہ سےہم جس نظریاتی جنگ میں شریک ہیں،اس میں فتح پائیں اوراپنے دشمنوں کووہ راہ نہ دیں کہ وہ ہمارےکردارکواسلام کےخلاف بھی دلیل بنا لیں۔" 
جدید تعبیرات اور معرکہ حق و باطل
مسلم مفکرین نے مساوات مردوزن کے فتنے کو ناسور قرار دیتے ہوئے اس فکر کو دین اسلام سے ارتداد کہہ کر تعبیر کیا ہے۔ ان لوگوں کی مثال قرآن مجید میں کچھ اس انداز سے دی گئی ہے کہ 
"وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ" 
"اورکچھ لوگ اللہ کےسوااورمعبودبنالیتےہیں انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اورایمان والےسب سےزیادہ اللہ سےمحبت کرتےہیں اوراگر ظالم دیکھتےجب وہ عذاب کوآنکھوں سےدیکھیں گےکیونکہ تمام قوت اللہ ہی کی ہےاوراللہ سخت عذاب دینےوالاہے۔"
مساوات اور حقوق نسواں کی تحریکوں کی فکر و نظر اسلام اور شریعت سے یکسر متصادم ہے بلکہ علمائے دین نے تو اس فکر کو اسلام سے بغاوت کہا ہے۔ ظاہری طور پر تو یہ حقوق کی جنگ لگتی ہے مگر اندرون خانہ دیکھا جائے تو یہ اسلام سے عداوت و دشمنی ہے۔ متجددین اگرچہ اسلام کی تعبیر نو کے نام پر تشریح کرتے ہیں مگر درحقیقت وہ دین میں تحریف و تصریف کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ترمیم کا نام لیتے ہوئے یہ لوگ احکامات دینیہ کو مسخ کر دیتے ہیں اور اجتہاد کا نام لے کر مغربی قوانین کی تشہیر کرتے ہیں۔  سید ابوالحسن علی  ندویؒ نے بھی اس فتنے کو فکر ِ ارتداد سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں کہ
"کچھ عرصے سے دنیا ئے اسلام کو ایسے ارتداد سے سابقہ پیش آیا ہے جس نے ملت اسلامیہ کے اس سرے سے اس سرے تک ایک لہر پیدا کردی ہے۔ یہ اپنی شدت وقوت اور وسعت و گہرائی میں اب تک کی تمام اتدادی تحریکوں سے بازی لے گیا ہے۔ کوئی اسلامی معاشرہ نہیں جو اس کی غارت گری سے بچا ہو بلکہ ملک تو ملک خاندانوں میں مشکل ہی سے تھوڑے بہت ہوں گے جو اس کی دست برد سے  محفوظ ہوں۔ یہ وہ ارتداد ہے جو شرق اسلامی پر یورپ کی سیاسی اور تہذیبی تاخت کے پیچھے پیچھے آیا ہے۔ یہ سب سے عظیم اتداد ہے جو عہد رسالت سے لے کر آج تک کی اسلامی تاریخ میں رونما ہوا ہے۔" 
یورپ سے جو گمراہ کن افکار و فلسفے مشرق تک پہنچے ، ان اپنی اصل میں اسلامی کے اساسی اصولوں کے انکار پر مشتمل تھے۔ حقوقِ نسواں اورمساوات مردوزن کافلسفہ بھی انہی میں سے ایک ہے جس نے اسلامی معاشرےپر حملہ کیااوراس کےباطن تک میں شامل ہوگیا۔علم و فہم کے اعتبار سے ممتاز مسلمانوں کے طبقے نے اس فکر  کو قبول کر لیا اور خوش گواری سے سینے سے لگا لیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے اس فکر کو اس طرح اختیار کیا کہ گویا  وہ عین اسلام کی پیرو کررہا ہو۔ اب یہ فتنہ گھر گھر اور خاندان تک میں شامل ہو گیا ہے۔ اسکول، کالجز، یونیورسٹیوں میں اس کی پرورش و یورش ہوئی اور بمشکل ہی ایسا کوئی خاندان بچا ہو جہاں اس فتنے کا پیروکار و پرستار موجود نہ ہو۔ اس میں کوئی ترددنہیں کہ یہ ارتدادہی کی ایک قسم ہےمگر اس فکر کا ڈسا ہوا مندر، ہیکل یا گرجا میں نہیں جاتا اور نہ ہی وہ اپنے تبدیلی مذہب و ارتداد کااعلان کرتا ہے بلکہ وہ اسی معاشرے اور سوسائٹی میں بدستور رہتا ہے اور تمام حقوق  بھی حاصل کرتا ہے۔ 
"پہلے وقت کے مرتدین اس سوسائٹی سے منسلک ہو جایا کرتے تھے جس کا دین وہ قبول کرتے تھے اور اپنے عقیدے کی تبدیلی کا صراحت اور جرات کے ساتھ اعلان کر دیتے تھے پھر جو کچھ نئے مذہب کی راہ میں انہیں برداشت کرنا پڑتا، برداشت کرتے تھے۔ انہیں اس پر اصرار نہیں ہوتا تھا کہ پرانی سوسائٹی میں جو حقوق اور منافع انہیں حاصل تھے، ان کو محفوظ رکھنے کے لیے اس سوسائٹی سے چپکے رہیں لیکن آج جو لوگ دین اسلام سے اپنا تعلق منقطع کرتے ہیں وہ اس پر تیار نہیں ہوتے کہ اسلامی سوسائٹی سے بھی اپنا تعلق کاٹ لیں حالانکہ دنیا بھر میں اسلامی معاشرہ ہی وہ تنہا معاشرہ ہے جس کی تاسیس و ترکیب عقیدے کی بنیاد پر ہے اور مخصوص عقائد کے بغیر اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آتا لیکن یہ نئے مرتدین اصرار کرتے ہیں کہ اس معاشرے کے نام پر فوائد حاصل کرتے ہوئے اپنی جگہوں پر جمے رہیں اور اسلام کے بخشے ہوئے تمام حقوق سے بھی متمتع ہوتے رہیں۔ یہ ایک نرالی صورت حال  ہے جس سے اسلامی تاریخ کو کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔ "
مساوات کی تحریک کے مسلم و مغربی فلسفیوں نے نہ صرف اخلاقی و اعتقادی اقدار کو کچل ڈالا بلکہ جاہلیت، عریانی و فحاشی، جنسی بے راہ روی سمیت ہر خرافات کی تخم ریزی دین اسلام میں کی ہے۔ قرآن مجید کے مطابق تو ہر طرح کی بے حیائی کا کام صرف شیطان ہی کرتا ہے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

مسلم فیمینزم کی تشریحات

مارٹن لوتھرکی فکر