سیرت نبو ی اور دفاع پاکستان کی ممکنہ جنگی حکمت عملی
سیرت
نبو ی اور دفاع پاکستان کی ممکنہ جنگی
حکمت عملی
تحقیق
وتحریر:رقیہ سبحان(ایم اے اسلامک اسٹڈیز(گولڈمیڈلسٹ) پنجاب یونیورسٹی
Islam is the
only religion that illuminates the length and breadth of this world with the
light of this religion and by freeing man from man’s slavery, man should be
made accountable only to God Almighty. At the time of advent of Islam, the
world was under the perpetual siege of atrocities and inhuman conduct. The then
two superpowers namely Caesar and Cesar were maintain the culture of might is
right and had not left any room open for ending the status quo because it
suited their aims and objectives. The condition of Arab peninsula was no
different from the other parts of the world. It was also stuck in a quagmire of
oblivion and darkness. This was when a personality emerged on the firmament of
the world and changed the whole system .He freed man from man’s slavery and
made man prostrate only before Allaha Almighty. When he took up cudgels against
the prevailing world order, the whole world turned against him. He even had to
leave his home and hearth in the quest. Hazrat Muhammad (S.A.W) mustered his
poverty- stricken army and trained them with his military strategies. Following
which they said army put an end to the shenanigans of certain Arab mischievous
in Arab peninsula in a way that a lasting peace spread not only in that
peninsula but also straddled from Hadramauwt to Makkah and from the borders of
Persia to Rome .To point to consider here is that what were those military
strategies that helped him do away with the pharaohs of those times.
Hence, it is
also need of the time to understand that Hazrat Muhammad (S.A.W.) was not only
the Rehmat –ulil –Alameen and an epitome of wisdom and intellect but as also
sent as a harbinger of peace by Almighty Allaha. Although he bore the
atrocities of Makkans on the streets of Makkaha for thirteen years; was not
allowed to pray within Baitulah; was pelted in Taif, yet he did not even
respond those atrocities eith curses let alone with bows or arrows . Having
said that, the focus of this article is solely upon the military strategies of
Hazrat Muhammad S,A.W. in different battles rather than the peaceful
propagation of religion.
Key words: Battle
strategies of Holy Phrophet S.A.w., Defense system of Islam, Pak
Army,
Abstract (تلخیص)
حریت وبشریت کاداعی اعظم دین اسلام ہے اور مقصدِ بعثتِ
داعیِ اسلام یہی تھا کہ اس دین مبین کی روشنی سے چہارسوعالم منور ہوں اورعباداللہ
کو عبادالعباد کی غلامی سے نکال کر رحمن
کی غلامی میں داخل کیا جائے۔ جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو دنیا میں ہرطرف ظلم
وجبر کا دور دورہ تھا۔دنیا کی دوعظیم عالمی طاقتیں قیصروکسریٰ نے دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا نظام
نافذ کررکھاتھا اور انسانیت کی تحقیر میں کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی تھی۔ کرہ ارض
کے دیگر خطوں کی طرح جزیرہِ عرب کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی اور یہاں کاپورا
معاشرہ بھی ضلالت وگمراہی کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ایسے حالات میں نبی
آخرالزماںﷺ کی اس دنیا میں آمد ہوئی اور آپﷺ نے اصنام کے آگے سجدہ ریز انسانوں کو
رحمن کے آگے مسجود ہونے ،افعالِ رزیلہ سے مجتنب اوراخلاق حمیدہ سے متصف ہونے کا
درس دیا تووقت کے تمام طاغوت آپﷺ کی راہ میں سدسکندری بن کر حائل ہوگئے، یہاں تک
کہ ان کو اپنا گھربارتمام اسباب سمیت ترک کرنے پر مجبور کردیاگیا۔ رسول کریمﷺ نے
اس مظلوم جماعت کو جوڑ کر ان کی تربیت کے ساتھ ایسی جنگی حکمت عملی تیار کی جس پر
عمل پیرا ہوکر پورے جزیرہ عرب میں کچھ شریروں کے خاتمے کے عوض ایسا دائمی امن قائم
ہوا کہ صنعاء وحضرموت سے مکہ مکرمہ اور ایران وروم کی سرحدوں تک راوی چین ہی چین
لکھنے لگا۔ ایسے میں قابل غور امور یہ ہیں کہ نبی مکرمﷺ نے کون سی حکمت عملی سے
وقت کے طاغوتوں کو زیروزبر کیااورہر میدان میں'کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ'کی تفسیر کا عملی نمونہ پیش کیا۔
لہذااس بات کی توضیح بھی نہایت ضروری ہے کہ نبی
مکرمﷺ رحمۃ للعالمین ہونے کے ساتھ نہ صرف حکمت وفنون کامنبع ومرجع تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیرکثیر کے حامل بھی
تھے۔آپﷺ نے تیرہ سال تک مکہ کی گلیوں میں ظلم وستم سہے، بیت اللہ میں عبادت سے
محروم کردیئے گئے،طائف میں پتھروں کی بارش سے لہولہان ہونے کے باوجود شمشیروسناں
تو درکنار ،لب سے کوئی بددعا تک نہیں نکالی۔ ان سب کے باوجود اس مقالے کادائرہ کار
آنحضرت ﷺ کی جنگی حکمت عملی ہے لہذا آپ کی پرامن تبلیغ اور مساعئ جمیلہ کاتذکرہ
کیے بغیر صرف غزوات کے تناظر میں منتخب موضوع پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔
جنگی منصوبہ بندی
جنگی حکمت عملی وہ منصوبہ بندی اور طریقہ ِکار ہے جومدمقابل
دشمن پرفتح کو یقینی بنانے اوراسباب شکست کو کم کرنے،اقتصادی،نفسیاتی اور خالص
عسکری بنیادوں پر وضع کیا جاتاہےاوریہ طریقہ کار زمانہ امن وجنگ دونوں میں ہی قابل
عمل رہتاہو۔[1] اس
بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دیکھنا چاہیے کہ رسول کریمﷺ نے شرپسند عناصر کے
مدمقابل کس انداز سے منصوبہ بندی کی،مزیدیہ کہ آپﷺ کی عسکری حکمت عملی ہرلحاظ سے
سائینٹفک اور جدید جنگی رجحانات کی حامل تھی لہذا چودہ سوسال گزرنے کے باوجود آج
بھی اس سے اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
فکری
،ذہنی اور جسمانی تیاری
نبی مکرمﷺ نے اپنے اصحاب کواولین طور پر
ایمان ویقین کےزیور سے آراستہ کیا کیونکہ ایمان وایقان [2]ہی
دشمن پر غلبے کی پہلی شرط ہے۔اس زیور سے آراستہ کرنے کے بعد ان کو مقصدِحیات
سمجھایا۔مقصدِحیات سے واقف ہوتے ہی ہرشخص جومسلمان ہوتاوہ اسلامی فوج کاحصہ بن
جاتا۔آپﷺ سب سے بڑے ماہر نفسیات تھےاورنفسیات دانی قائدین میں یہ ملکہ پیداکردیتی
ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کوان کی حسبِ لیاقت،بروقت تعینات کرکے بہترنتائج اخذ
کرسکتے ہیں۔[3]رسول
کریمﷺ بھی بحیثیت ماہرِنفسیات ہرشخص کی جسمانی
صلاحیتوں اور ذہنی استعداد کے مطابق اسے کسی فریضے سے وابستہ کرتے تھے،یہاں تک کہ
معذور افراد بھی پچھلے مورچوں پر مامور کیے جاتے جوکہ عقب میں رہ کر عسکری فرائض
سرانجام دیتے۔ بدرکی لڑائی کے لیے نکلنے سےقبل حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ
کونابینا ہونے کے باوجود مدینہ کے ہیڈ کوارٹر کاانچارج بنایا گیا بعدازاں حضرت
ابولبابہ بن عبدالمنذر کویہ فریضہ سونپا گیا۔[4]یہ
ایسے وقت میں ہوا جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی مدینہ
منورہ میں موجود تھے مگراپنی زوجہ محترمہ کی علالت کے سبب انہیں کوئی اضافی ذمہ
داری نہیں سونپی گئی تھی۔[5]
غزوہِ بدر سے پہلے آپﷺ نے مہاجرین صحابہ
کرام کو ایسے مقامات پر جنگی ذمہ داریاں سونپ کر تعینات کیا جو فوجی نکتہ نظر سے
نہایت اہم تھے۔یہ تمام علاقے پہاڑی،صحرائی،میدانی یابیک وقت صحرائی وپہاڑی تھے۔ اس
سب کے ساتھ ساتھ یہ علاقے آب و ہوا کے اعتبار سے نہایت دشوارگزار اور سخت
تھے۔صحابہ کرام کی وہاں تعیناتی کا مقصد ان کی جسمانی تیاری کے علاوہ سپاہ کی
اجتماعی تربیت بھی مقصود تھی تاکہ بوقت ضرورت
جغرافیائی تبدیلی حصول ِمقاصد میں حائل نہ ہو چنانچہ بعد میں یہی لوگ ہند
کی سرحدوں سے مراکش تک پھیل گئے اور مختلف جغرافیائی تبدیلیوں میں اپنے آپ کو
آسانی سے تبدیل کرتے گئے۔ان کی ایمانی پختگی اور جسمانی تربیت کو دیکھتے ہوئے ایک
غیرمسلم نے کہا کہ
"رھبانابالیل وفرسانابالنھار"[6]
یہ لوگ راتوں کے عبادت گزار اور دن کے وقت شاہ سوار ہیں۔
دشمن
سے آگاہی رکھنا
عسکری میدان میں اترنے سے قبل دشمن کی
مکمل معلومات کاحصول نبی کریمﷺ کی اول جنگی حکمت عملی تھی۔ ہجرت کے بعد ابتدائی
دوسالوں میں حضرت عباس اعداءِ اسلام کی
معلومات فراہم کرتے تھے۔ان کے علاوہ حضرت بسبس نےمیدان بدر میں، حضرت معبد نے
حمراء الاسد میں، حضرت اوس بن خولی نے ذی طویٰ میں، حضرت بشربن سعد نےعمرۃ القضاء
کے موقع پرظہران میں، حضرت حسیل ابن نویرہ نے خیبر میں،حضرت انس بن مرثدغنوی نے
اوطاس میں اور حضرت عبداللہ بن ابوحدرداسلمی نے بنوہوازن کے خلاف رسول اللہﷺ کے
لئے جاسوسی کے فرائض سرانجام دیئے۔[7]ان کی
فراہم کردہ معلومات پر آپﷺ نے اپنی جنگی حکمت علمی مرتب کی۔ان محصلہ معلومات میں
دشمن کی صفوں میں ان عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی جو مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ
رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے رسول اللہﷺ نے غزوہِ بدر سے قبل اپنی فوج کو بتا دیا تھا کہ
حکیم بن حزام،اخنس بن شریع اور ابوالبختری کو قتل نہ کیا جائے۔[8]کفارقریش
کےبارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انصارِمدینہ بھی مکہ مکرمہ جایا کرتے
تھے۔ایسے ہی ایک سفر میں حضرت سعد بن معاذ اور ابوجہل کے درمیان سخت تکرار ہوئی
تھی۔[9]
آپﷺ کی حکمت عملی یہ تھی کہ طلایہ
گرددستے(Reconnaissance
Squads) ترتیب دیتے
جومدینہ سے نکل کر دشمن کی عسکری قوت کے بارے میں معلومات حاصل کرتے اور ضرورت
پڑنے پر یہی دستے فائٹنگ پیٹرول(Fighting
Patrol) کا کام
سرانجام دیتے۔ عبداللہ بن جحش کادستہ اس سلسلے کی اہم مثال ہے جس میں عمروبن حضرمی
کوقتل کرکے اس کے دوساتھیوں کو قیدی بنایا تھا۔[10] آپﷺ اپنے حلیف قبائل سے لاتعطل رابطہ
رکھتے جو مدینہ کی اسلامی حکومت کے خلاف
ہونے والی کسی بھی ممکنہ جنگی منصوبہ بندی سے آپﷺ کو آگاہ کرتے۔کچھ صحابہ انفرادی
طور پر بھی یہ خدمات سرانجام دیاکرتے تھے جیساکہ احد کے دوسرے روز لشکرکفار کے
بارے میں معلومات حضرت معبد نے فراہم کی تھیں اورانہی معلومات سے رسول اللہﷺ کو
اپنی جنگی حکمت عملی نئے سرے سے مرتب کرنے میں مدد ملی۔[11]آپﷺ
کاطریقہ تھا کہ چندافراد کو لشکر سے آگے بھیج کر دشمن کے بارے میں خبروں کاپتہ
چلاتے تھے۔بدر کے موقع پر بھی ایسے دودوستے بھیجے گئے تھے۔[12]
نبی مکرمﷺ کی سنت تھی کہ کہیں سے ملنے والی معلومات کی
تصدیق دوسرے ذرائع سے بھی کیاکرتے تھے۔احد کی لڑائی کے موقع پر حضرت عباس کی طرف سے ملنے والے خط کی تصدیق کے لیے آپﷺ نے
حضرت انس اور ان کے بھائی حضرت مونس کو
بھیجا تھا جنہوں نے تصدیق کی کہ لشکرکفار مدینے کے قریب پہنچ چکاہے۔ بدر میں آپﷺ
نے ایک مردپیر سے کفار کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور بعدازاں دشمن کے دو
گرفتارشدہ غلاموں کے ذریعے دشمن کےبارے میں دستیاب معلومات کی تصدیق کی۔[13]غزوہ
خیبر کے دوران مقامی افراد میں سے دوافراد کے ذریعے خیبر کے یہودیوں کےبارے میں
دستیاب معلومات کی تصڈیق کی۔غزوہ خندق میں حضرت زبیر اور حضرت حذیفہ اس کی زبردست
مثالیں ہیں۔[14]
جنگی
رازوں کی حفاظت
نبی کریمﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان
اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تربیت ایسی کی تھی کہ مسلمانوں کی جنگی حکمت عملی کی
کسی کو کوئی خبر نہیں ہوتی تھی۔آپﷺ کچھ معاملات میں صحابہ کرام سے مشورہ کیا کرتے
تھے مگر کچھ معاملات کو عام صحابہ سے پوشیدہ بھی رکھتے تھے۔یہاں تک کہ مسلمان فوج
کےتحرک سے بھی اندازہ نہیں ہوسکتاتھاکہ کس جانب کاارادہ ہے۔ بدر کے موقع پر عام
راستے سے ہٹ کر دشمن کی طرف پیش قدمی کے
باوجود بھی مسلمانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اصل پیش قدمی کس طرف ہوگی۔[15] مکہ
روانگی کے موقع پر حضرت حاطب بن بلعتہ سے جو غلطی سرزد ہوئی تھی اس کے نتیجے میں
مسلمانوں کو نقصان پہنچ سکتاتھا مگر نبی کریمﷺ کے جاسوسی کے نظام کے باعث یہ خبر
دشمن کو یہ خبر نہ مل سکی۔[16] بدر
میں ایک ایک ضعیف آدمی نے آپﷺ سے لشکر قریش کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے
پوچھا کہ آپﷺ کون ہیں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ پہلے تم بتاؤ پھر ہم بتائیں گے۔ اس
سے آپ نے معلومات لے کر آپﷺ نے ان سےتعارف کرانے کاکہا توآپ نے مدینہ کی طرف اشارہ
کرکے فرمایاکہ ہم پانی کے خطے کے رہنے والے ہیں۔اس سے وہ سمجھا کہ آپﷺ عراق کے
رہنے والے ہیں۔[17]
جنگی رازوں کی حفاظت کے لیے آپﷺ نے خفیہ
خط لکھنے کی شروعات کی تاکہ جنگی حکمت عملی کو پوشیدہ رکھا جائے۔ حضرت عبداللہ بن
جحش کودیاجانے والاخط اسی ضمن میں لکھا گیاتھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے
حضرت عبداللہ کو خط دے کر فرمایاکہ اسے دودن کی مسافت کے بعد کھولنا۔دودن کے بعدجب
خط کھولا تو اس میں مرقوم ہدایت کے مطابق دشمن کی عسکری حکمت عملی سے واقفیت حاصل
کرناتھی۔ان ہدایات کو خودجنگی کمانڈر سےپوشیدہ رکھنا دراصل رسول کریمﷺ کی عسکری حکمت عملی کاحصہ تھا۔ آپﷺ افواج کے تحرک
کو اس لیے پوشیدہ رکھتے تھے کہ یکایک دشمن کے سرپر پہنچ جائیں۔غزوہ دومۃ الجندل،
غزوہ خیبر اور فتح مکہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
میدان جنگ میں لڑنے کےلیے بہترین جگہ کا انتخاب
بہترین جنگی حکمت عملیوں میں سےایک
منصوبہ سازی لڑائی کےلیے جگہ کاانتخاب
ہوتاہے کہ دشمن کی نسبت زیادہ عسکری فوائد حاصل کیے جائیں اورانتخاب ِوقوعہ
ایک ماہر عسکری قائد کی یہ بہت بڑی خوبی ہوتی ہے۔بدر کے میدان میں پہنچ کر رسول
اللہﷺ نے لڑائی کے لیے جبل عریش کاانتخاب کیا ۔اس جگہ پڑاؤ ڈالنے کی وجہ دشمن کی
نقل وحرکت پر دور سے نظررکھنا،ان کو آبی وسائل سے محروم کرنااورپشت سے کسی متوقع
حملے کو ناممکن بناناتھا۔ اس حکمت عملی کانتیجہ یہ نکلا کہ جنگ شروع ہونے سے قبل
ہی دشمن ناامید ہوگیا،چنانچہ اسودبن عبدالاسد پانی کے حصول کے لیے کوشش کرتے ہوئے
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ماراگیا۔[18]غزوہ
احد کے موقع پر بھی رسول اللہﷺ نے لڑائی کے لئے جگہ کاانتخاب کرتے ہوئے جبل احد کو
پشت پر رکھااورممکنہ حملے سے بچاؤ کےلیے ایک چھوٹی پہاڑی جبل عنین پر تیراندازوں
کاایک دستہ مقرر فرمایا۔[19]
بدرواحد کے علاوہ غزوہ خندق کے موقع پر بھی رسول اللہﷺ کی یہی جنگی بصیرت اپنے
پورے کمال کے ساتھ نظر آتی ہے جس میں رسول اللہﷺ کاخندق کھودنے کے لیے جگہ
کاانتخاب کرنا،کھدائی کے لیے ہرصحابی کے
لیے جگہ کاتعین اوردشمن کی آمد سے قبل ہی دفاعی تیاریاں مکمل کرلینا شامل ہے۔
صفیں
بنانا اور تقسیم
عسکری میدان میں باقاعدہ صف بندی کارواج ساتویں صدی عیسوی
کی ابتداء تک مفقود تھا اورعرب کے اندر بھی کسی منظم صف بندی کاتصور تک موجود نہیں
تھا۔غزوہ بدر سے قبل رسول اللہﷺ دومرتبہ دودوسوصحابہ کرام کے ساتھ دشمن سے مقابلے
کےلیے نکلے مگر متوقع جنگ کاخطرہ ٹل گیااور لڑائی کی نوبت ہی نہ آسکی۔بدر میں
کفارمکہ نےاپنے لشکر کو دوحصوں میں منقسم کرکے جنگی حکمت عملی بنائی تھی مگراس کے
باوجود ان کےاندر نہ کوئی نظم تھااورنہ وہ کسی مشترکہ قائد کے تحت لڑ رہے تھے۔ فوج
کو تین حصوں یعنی میمنہ،میسرہ اورساقہ میں تقسیم کرنے کی پہلی بنیاد نبی مکرمﷺ نے
رکھی اور دواونٹی سوار ان تینوں حصوں میں باہمی ربط کے لیے متعین کیے جو رسول
اللہﷺ کی عسکری ہدایات ان تک پہنچاتےتھے لہذا ان تینوں حصوں نے جنگ کے دوران ملنے
والی ہدایات کے مطابق ایک دوسرے کو کمک پہنچائی۔[20]عسکری
ماہرین کے نزدیک صف بندی جنگی قائد کے ہاتھ کی احتیاطی قوت کی ضمانت ہے جس کی
مددسے کسی بھی غیرمتوقع صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکتاہے۔[21] فتح
مکہ کےدن مسلم فوج میں کوئی باقاعدہ صف بندی نہ تھی لیکن رسول اللہﷺ نے لشکر کی
تقسیم چار حصوں میں کرکے شہر کے مختلف اطراف سے پیش قدمی کی اور نبی کریمﷺ کی اس
حکمت عملی کی وجہ سے مشرکین مکہ اسلامی فوج کے آگے ڈھے گئے۔[22]
آگے
بڑھ کر حملہ کرنا
نبی مکرمﷺ کی شجاعت کی لانظیر مثال اور عسکری اصول تھا کہ
دشمن کی تعداد زیادہ ہونےکے باوجود فوج کو نرغے میں آنے نہ دیتے اور مرکز سے نکال
لاتے۔غزوہ بدراور اس سے ماقبل تمام جنگی پیش قدمیاں اقدامی کاروائیاں تھیں لیکن
سیرت نگاروں نے ان تمام نقل وحرکت کاسبب قریش کے تجارتی قافلوں کی آمدورفت سے
واقفیت اور ان میں خلل پیداکرنا تھا۔[23]غزوہ
بواط کے موقع پر نبی مکرمﷺ دوسو صحابہ
کرام کو لے کر امیہ بن خلف کے قافلے کا راستہ روکنے نکلے جو کہ ایک غیرمعمولی
اقدامی کاروائی تھی۔[24]دشمن
کوہیبت زدہ اورمرعوب کرنے میں ایسی کاروائیوں نے نمایاں کردار ادا کیا نیزان
کاروائیوں سے مسلم افواج کےحوصلے اس قدر بلند ہوگئے کہ انہوں نے پھر دشمن کی تعداد
وسازوسامان کو کبھی ملحوظ خاطرنہ رکھا اور جنگ خندق کے علاوہ ہر لڑائی میں مسلم
سپاہ نے بڑھ چڑھ کر دشمن کامقابلہ کیا حتی کہ تبوک کی لڑائی میں بےسروسامانی کے
باوجود عالمی طاقت کے خلاف لڑنے نکل کھڑے ہوئے۔ان اقدامات سے رومی فوج اس قدر
مرعوب ہوئی کہ پسپائی اختیار کرتی ہوئی اپنے علاقوں کے اندر دورتک چلی گئی اور
بعدازاں کئی برس تک انہوں نے اسلامی حکومت کے خلاف جنگ کاسوچا بھی نہیں۔[25]
شب
خون مارنا
جنگی اصطلاح میں اس سے مراد دشمن کو یکدم جالینا ہے کہ اسے
سنبھلنے کابھی موقع نہ مل سکے اورعسکری میدان میں دشمن کو اس طرح کی صورتحال سے
دوچار کرنا قیادت کی مہارت،نظم وضبط اوراحکامات کی پاسداری کامرہون منت ہے۔نبی مکرمﷺ کی
عسکری تدابیر میں اچانک پن کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔اس حکمت عملی پر عمل پیراہونے کے
لیے فوج کی سریع الحرکتی سمیت دشمن کے بارے میں بھرپور معلومات کابہت دخل ہے۔ غزوہ
احد کے موقع پر مشرکین کی صف بندی کے بعد نبی کریمﷺ نے اسلامی فوج کو عین بائیں
جانب لاکھڑاکیالہذا دشمن کو آخری وقت میں اپنی تمام صف بندی تبدیل کرنا پڑی۔
مؤرخین کے مطابق رسول اللہﷺ نے سورج کو پشت پررکھا جبکہ سورج کی روشنی براہ راست دشمن کی آنکھوں میں پڑ
رہی تھی چنانچہ اپنی عسکری حکمت عملی میں نقص کے باعث کفارمکہ پہل کاری سے محروم
ہوگئے۔[26] خیبر کے موقع پر نبی مکرمﷺ نے اسلامی سپاہ کی سریع الحرکتی
اوراچانک پن کی وجہ سے دشمن کو اس قدر خوفزدہ کیا کہ وہ لڑنے کے بجائے افراتفری کے
عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ خندق کی لڑائی کے دوران
اسلامی فوج سے چارگنا بڑی سپاہ نے جب اپنے سامنے اچانک ایک گہری اور چوڑی
خندق پائی توان کے حواس خطا ہوگئے اور مدینہ پر حملے کرنے کاان کا منصوبہ بری طرح
ناکام ہوگیا۔فتح مکہ کے موقع پر جب مسلم سپاہ کفار کی توقعات کے برعکس مکہ کی وادی
میں پہنچیں توکفار بوکھلا گئے۔کتب حدیث میں ابوسفیان اورہندہ کامکالمہ منقول ہے جس
کے مطابق اس اچانک پن کے نتیجے میں لوگوں کا یہ بھی سمجھ نہیں آرہاتھاکہ وہ کدھر
جائیں اور کیا کریں۔ دومۃ الجندل کی لڑائی کے دوران رسول کریمﷺ ایک ہزار کالشکر لے
کر چلے۔آپﷺ رات کو سفر کرتے اوردن کو چھپے رہتے یہاں تک کہ جب اسلامی لشکر اہلیان
دومۃ الجندل کی امیدوں کے برعکس اچانک
نمودار ہوا تووہ ایسے بھاگے کہ پورے شہر سمیت اکناف واطراف میں بھی کوئی آدمی باقی
نہ رہا اور سارا سازوسامان مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔[27]بنولحیان پربھی مسلمانوں نےایساہی یکدم حملہ کیاتھا کہ وہ
سنبھل بھی نہ سکے اور رجیع کے مقام پر مسلمان قراء کو شہید کرنےکے جرم میں علاقہ
بدر کردیئےگئے۔[28]
حملے میں پہل کرنا
جنگی کامیابی کو پریقین بنانے کےلیے ایک
اہم عنصر پہل کاری ہوتاہے جس سے مراد یہ ہے کہ حالت جنگ میں پہل کرتے ہوئے اپنے
پسندیدہ محاذ کاانتخاب کیا۔دوسرےلفظوں میں یہ کہاجاسکتاہے کہ دشمن کو اس کی مرضی
کے برخلاف حالات ومحاذ پر لڑنے کے لیے مجبور کردیاجائے تاکہ اس کے پاس کوئی جنگی
تدبیر باقی نہ رہے۔ رسول کریمﷺ نے بدر کے موقع پر یہی حکمت عملی اپنا کر دشمن کو
اس زمین پر لڑنےکے لیے مجبور کیا جو اس کےلیے قطعی طور پر سودمند نہیں تھی۔بدر کے
ساتھ ساتھ یہی حال احد اور خندق میں بھی تھا۔ بنوخزاعہ کی ایک شاخ بنومصطلق چاہتی
تھی کہ مدینہ منورہ پر حملہ کرکے رسول اللہﷺ کوشہید کردیاجائے۔یہ لوگ مکہ کے قریب
مقام مریسع نامی ایک جگہ پر رہتے تھے۔آپﷺ اپنی سپاہ لے کرنکلے اور بنومصطلق کے
گھاٹ پر جاکر پڑاؤ ڈالا۔وہ لوگ مقابلے کےلیے نکلے مگرمسلمانوں نے ان کامحاصرہ کیا
ہوا تھا لہذاان کی مدد کےلیے آنے والے لوگ بنو مصطلق کی کوئی مددنہ کرسکے
اورمسلمانوں نے ساراقبیلہ جنگی قیدی بنالیا۔[29]
6ہجری میں رسول اللہﷺنے عمرے کاقصد کرتے ہوئے مکہ کے لیے
کوچ کیا تو مشرکین کاایک چھوٹا لشکر خالدبن ولید کی قیادت میں مسلمانوں کامقابلہ کرنے نکلا۔ آپﷺ کو اطلاع مل
گئی کہ دشمن مقام عسفان تک پہنچ چکاہے مگر مسلمان لڑائی کی غرض سے نکلے ہی نہیں
تھے لہذا آپﷺ نے صحابہ کرام کو ہدایت کی کہ عام راستے سےہٹ کر غیرمعروف راستے سے
مکہ کی طرف بڑھیں۔چنانچہ دشوارگزارراستہ ہونے کے باوجود مسلمان مشرکین سے تصادم
کیے بغیر حدیبیہ تک پہنچ گئےجہاں مشرکین کی فوج انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی
تھی جبکہ مسلمان اس پوزیشن میں تھے کہ کسی بھی حملے کاجواب دے سکتے تھے۔اس مقام پر
کچھ لوگوں نےشرارت کی تو صحابہ کرام نے ان میں سے پچاس افراد کو گرفتار کرلیا تاہم
بعد میں رسول اللہﷺ نے انہیں رہاکردیا۔مسلمانوں کے ان اقدامات کی وجہ سے کسی دوسرے
لشکر کو جرات نہ ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے پر آئے لہذا واپسی تک پہل کاری
کااعزاز مسلمانوں کےپاس ہی رہا۔[30]
جنگی
پلان میں لچک رکھنا
عسکری میدان کی بدلتی صورتحال کے پیش
نظر مناسب کاروائی نہ کرسکنے کی صورت میں دشمن کاپلہ بھاری ہوجاتا ہےاور وہ کوئی
بھی نقصان پہنچانے کی استعداد حاصل کرلیتاہے۔رسول اللہﷺ جب بھی کوئی حربی منصوبہ
تشکیل دیتے تواس کے ہرممکنہ پہلو پر غور فرماتے اوراس میں ایسی لچک ہوتی کہ میدان
جنگ کی صورتحال بدلتے ہی منصوبہ کے نئی حکمت عملی میں ڈھال لیا جاتا۔ احد کی لڑائی
کے دوسرےمرحلے کے بعد افراتفری کے عالم میں مسلم فوج منتشر ہوگئی۔ ایسی صورتحال کو
معمول پر لانا تقریبا ناممکن ہوتا ہےمگرآپﷺ نے اس امر کی پیش بندی کی ہوئی تھی
لہذا آپﷺ نے باقی ماندہ سپاہ کے ساتھ پہاڑ کی بلندی پر چڑھے اور دشمن کے ساتھ
مقابلہ جاری رکھا۔اس دوران دشمن نے کئی بھرپور وار کیے لیکن بقیہ فوج کے ساتھ رسول
اللہﷺ نے دشمن کے حملوں کاایسا دفاع کیا کہ دشمن لاکھ کوشش کے باوجود اپنے مقصد
میں کامیابی نہ ہوسکا۔غزوہ حنین و طائف کے وقت بھی عین حالت جنگ میں آپﷺ نے اپنے
عسکری منصوبےمیں حالات کی نزاکت کو مدنظررکھتےہوئے کچھ تبدیلیاں کیں جس سے مثبت
نتائج حاصل ہوئے۔[31]
دشمن
کے جذبے پر حملہ کرنا
نبی مکرمﷺ کی عسکری منصوبہ بندی کاایک
پہلو یہ بھی تھا کہ دشمن کی فوج کے افسران
اورجوانوں کے لڑنے کے جذبے پرکاری ضرب لگاتے تاکہ میدان جنگ میں سامنا ہونے سے قبل
ہی نصف جنگ جیت لی جائے اور مکمل جیت کاامکان ممکن بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے
آپﷺ کچھ اصولوں پر عمل پیرا تھے۔
الف۔ دشمن کی صفوف میں غیرشدت پسند عناصر سے رابطہ
تاکہ حتی الامکان دشمن کو حملے سے باز رکھا جاسکے۔
ب۔ طویل محاصرہ،مثلاً غزوہِ بنونضیرو بنو قریظہ،
خیبروطائف
ج۔ ناگہانی حملے
مثلا دیارِغطفان کی جانب صحابہ کی روانگی سے بنو غطفان ہڑبڑا اٹھے، اسی طرح غزوہ
ذات السلاسل میں سات قبیلوں پر حملوں اور ان کی پسپائی
د۔ اقتصادی روک
تھام،بدرکبریٰ سے قبل ہونے والی لڑائیاں سریہ زیدبن حارثہ اور اثامہ بن اثال کے
ذریعے کفار کی معاشی ناکہ بندی۔[32]
بیک وقت دشمن سے مقابلہ
نبی مکرمﷺ کا حربی حکمت عملی میں یہ بھی شامل تھا کہ ایک
وقت میں صرف ایک دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ آپﷺنے خیبر کی طرف جاتے ہوئے خیبر اور
غطفان کے درمیان وادی رجیع میں قیام فرمایا۔اسی طرح غطفانی قبائل اور خیبر
کےیہودیوں کو ایک دوسرے کی مدد سے باز رکھا۔ غفطانیوں نے یہ گمان کیا کہ ان پر
حملہ ہورہاہےلہذا وہ اپنے علاقے سے ہی نہیں نکلے اورآپﷺ نے آگے بڑھ کر خیبر کوفتح
کرلیا۔ وادی رجیع میں قیام کامقصد ایک یہ بھی تھا کہ وہاں رات گزار کر صبح کی
روشنی میں خیبر میں داخل ہوا جائے۔ عساکر اسلام کی تربیت کےلیے یہ بات ملحوظ خاطر
رکھی گئی کہ آئندہ کسی دشمن کے مقابل آنے کی صورت میں دشمن کی طاقت کو متحد نہ
ہونے دیاجائے اور ہردشمن کے ساتھ علیحدہ مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کی طاقت حصوں میں
بٹ کر ختم ہوجائے۔[33]اسی
عسکری حکمت عملی کانتیجہ صلح حدیبیہ تھا جس میں کفارمکہ سےعارضی صلح کی گئی اور
یہودیوں کو نمٹایا گیا۔بعد میں جب کفارمکہ نے خود ہی معاہدے کو توڑا تویہودی طاقت
کے خاتمے کے بعد کفارسے نمٹنا آسان ہوگیا۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب عرب کے متحدہ
قبائل نے مدینہ پر چڑھائی کردی توایسے وقت میں رسول اللہﷺ نے بنوغطفان کےساتھ
معاہدہ امن کیا تاکہ ایک وقت میں ایک ہی
دشمن کاسامنا کیا جائے تاہم اس معاہدے کو عمل میں نہیں لایاگیا۔[34]
دشمن
کا پیچھا کرنا
دشمن کے خلاف فتح کو یقینی بنانے اور
دشمن کی عسکری قوت پر کاری ضرب لگانے کےلیے دشمن کاتعاقب ضروری ہوتاہے ۔ دشمن کے
قدم اکھڑجانے پر تعاقب کے ذریعے اس کی مزید حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ غزوہ بدر میں
جب دشمن بھاگ نکلا تومسلمانوں نے دشمن کاتعاقب کیا لہذا اسی تعاقب کے خوف سے تین
گنا زیادہ تعداد کاحامل دشمن نے پیچھے مڑکر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ غزوہ احد کے
پہلے مرحلے میں جب دشمن نے راہ فرار اختیار کی تومسلمان فوج نے ان کا دور تک تعاقب
نہ کیا اور اسی سبب سے مسلمانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑگیا۔ بعد میں نبی مکرمﷺ
نے تمام سپاہ کو لے کر دس میل دور حمراءالاسد تک دشمن کا تعاقب کیا۔اس تعاقب نے
دشمن پر رعب طاری کردیاجبکہ مسلمانوں کے حوصلے پستی کےبعد ایک بار پھر بلند ہوگئے۔[35]حنین
کےمقام پر قبیلہ ثقیف شکست کھاکر طائف کی طرف بھاگاجبکہ دیگرقبائل اوطاس اور نخلہ
کی طرف بھاگ نکلے۔نبی کریمﷺ نے ان کے تعاقب کا حکم دیا جس کے نتیجے میں دشمن نے
ہتھیار ڈال دیئے اور بہت سے قیدی بنالیے گئے۔بنوثقیف کےتعاقب میں مسلمانوں نے طائف
تک ان کاپیچھا کیا جہاں دشمن اپنے قلعوں میں محصور ہوکر کسی بیرونی فوجی امداد سے
محروم ہوگیا۔[36]
آپﷺ کی سنت تھی کہ
مناسب افرادی قوت نہ ہونے کی وجہ سے تعاقب کاسلسلہ ترک بھی کردیاکرتے
تھے۔مدینہ پر کچھ ڈاکوؤں نے حملہ کیا توآپ ﷺ نے ہنگامی طور پر کاروائی کرتے ہوئے
دستیاب سپاہ کو ساتھ لے کر ان کا تعاقب کیا اور مغصوبہ مال چھڑا لیا۔ اسلامی دستے
کی تعداد مناسب نہ تھی لہذا آپﷺ نے تعاقب سے منع فرمادیاکہ کہیں کوئی نقصان نہ
اٹھانا پڑ جائے۔[37]
معاشی
طور پر ناکہ بندی کرنا
مدینہ منورہ بحیثیت مرکزاسلام مستحکم
کرتے ہی آپﷺ نے کفارمکہ کی اقتصادی ناکہ بندی کی۔یہ عسکری حکمت عملی دشمن کو بری
طرح بوکھلادیتی ہے خواہ دشمن کو کتنی ہی عددی اور مادی برتری حاصل ہو۔سریہ حمزہ
رضی اللہ پہلا حملہ تھاجس سے نہ صرف کفار کو نقصان پہنچایاگیا بلکہ ان کے تجارتی
راستوں کو پرخطر اور دہشت ناک بنا دیاگیا۔[38] جبکہ
اس کے بعد کے سرایا نے دشمن کو مزید تشویش میں مبتلا کردیا۔ دشمن نےمتبادل تجارتی
راستہ اختیار کیاتورسول اللہﷺ نے زیدبن حارثہ رضی اللہ کو بھیجا جو اس پورے تجارتی
قافلے پر قبضہ کرکے سارامال مدینہ لے آئے۔[39]اقتصادی
ناکہ بندی کی اس حکمت عملی نے کفارمکہ کی کمر توڑ دی۔ ایک اور موقع پر مسلمانوں
کاایک دستہ رئیسِ نجد اثامہ بن اثال کو پکڑ لایا۔نبی کریمﷺ نے حکم دیاکہ اسے
مسجدنبوی کے ستون سے باندھ دیاجائے۔آپﷺ ہرنماز کے لیے آتے وقت اسے اسلام کی دعوت
دیتے مگروہ فدیہ اداکرکے آزاد ہونے کے لیے استدعاکرتا۔ تیسرے دن نبی کریمﷺ نے
فرمایاکہ اسے کھول دیاجائے۔اس برتاؤ سے متاثرہوکروہ اسلام لے آیا۔مکہ کو خوراک
ملنے کاسب سے بڑا آسرانجد کاتھا لہذا اثامہ نے کہاکہ رسول اللہﷺ کے حکم کے بغیرایک
دانہ بھی مکہ نہیں جائے گا۔ اس اقتصادی ناکہ بندی پر کفارمکہ چلا اٹھے اورابوسفیان
خودمدینہ آیا اور رشتہ داری کاواسطہ دے کر ترسیل خوراک بحال کرائی۔
چھاپہ
مار کاروائیاں کرنا
نبی کریمﷺ کی جنگی حکمت عملی ایک یہ بھی
تھی کہ کم سےکم عسکری قوت کو بروئےکار لاتے ہوئے دشمن پر زیادہ کاری ضربیں لگاکران
کے جذبہِ قتال کو نابود کیاجائے۔بدر سے پہلے بھیجی گئی اکثر مہمات کامقصد یہی تھی
مگران کاروائیوں نے کفارمکہ کو سخت خوفزدہ کردیااورانہیں یہ محسوس ہونے لگاکہ اب
وہ ملک شام کے ساتھ تجارت کرہی نہیں سکیں گے۔ بدر کے بعد کی کاروائیوں میں سریہ
عبداللہ بن انیس میں فقط ایک ہی صحابی رسول اللہﷺ کی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے بطن
عرنہ گئے اور سفیان کاسر کاٹ کر مدینہ لے آئے جس کے نتیجے میں حملے کے لیے مکمل
تیار اعراب کالشکر منتشر ہوگیا۔[40]
گوریلاکاروائیوں کی ایک اورنظیر صفوان بن امیہ کے تجارتی قافلے پر حضرت زید کا
حملہ تھا جس میں کوئی عسکری نقصان اٹھائے بغیر ایک لاکھ درہم کامال غنیمت مسلمانوں
کو ملا۔ اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عتیق
کی سرکردگی میں ابورافع بن ابوالحقیق کوقتل کرنے کی مہم بھیجی گئی جس نے حیی بن
اخطب کے ساتھ مل کر خندق کے موقع پر عرب قبائل کو مدینہ پر حملہ کی ترغیب دی تھی۔
چنانچہ عبداللہ بن عتیق نے تن تنہا ابورافع کو اس کے محافظوں کے درمیان سے گزر کر
قتل کیا۔[41]
رات
میں سفر کرنا
رات کاسفر عسکری زندگی میں خصوصی اہمیت کاحامل ہے۔ دشمن کی
نظروں سے افواج کی نقل وحرکت اور منصوبہ بندی چھپانے کے لیے رات کے وقت افواج
کوحرکت میں لاکر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ رسول اللہﷺ عموماً اپنی فوج کے
ساتھ رات کے وقت ہی سفر کیا کرتے تھے۔ رات کے سفر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپﷺ نے
فرمایاکہ تمہیں چاہیے کہ رات کے وقت سفر کیا کروبےشک رات کے وقت زمین لپیٹی جاتی
ہے۔[42] نبی
کریمﷺ دومۃ الجندل کی طرف گئے تو رات کے وقت سفر کیا اوردن کے وقت تمام لشکر نے
چھپ کر آرام کیا۔ بدرمیں پڑاؤ کی آخری تبدیلی بھی رات ہی کے وقت عمل میں لائے گئی
جس سے دشمن کو فوج کی اصل پوزیشن کااندازہ نہ ہوسکا۔ غزوہ احد کے لئے بھی رات کو
آخری پہر ہی کوچ کیا تھا۔[43]
مختلف
جنگی چالیں
دشمن پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے آپﷺ ایسی عسکری چالیں
استعمال کرتے تھے جس سے فتح کو یقینی بنایا جاسکے۔ آپﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا
کہ'الحرب خدعۃ' جنگ ایک دھوکہ ہے۔حضرت نعیم بن مسعودنے غزوہ خندق کے موقع پر ایک
چال چلتے ہوئے یہودیوں اور مشرکین مکہ کے برآمد عدم اعتماد کی فضا قائم کردی ۔[44]
طائف کے محاصرے کے دوران آپﷺ نے دشمن میں رخنہ ڈالنے کے لیے
آپ نے قلعے سے اترآنے والوں کے لیے آزادی کااعلان کردیا۔اس پر تیئس آدمی قلعے سے
باہر آگئے اورقلعے کے اندر والے شش وپنج میں مبتلا ہوگئے۔بعد میں جنگی چال کے طور
پر محاصرہ اٹھا لیا گیا اس پس قدمی کے نتیجے میں سارے قبیلے نے اسلام قبول کرلیا۔[45] دشمن
کے علاقے میں محددود پیمانے پر تباہی بھی رسول اللہﷺ کی ایک عسکری چال تھی جواللہ
کےحکم سے ہوا کرتی تھی۔ بنونضیر اوربنوثقیف کے محاصرے میں دشمن کے علاقوں کے کچھ
درخت کاٹے اورجلادیئے گئے۔[46]مولانامودودی
لکھتے ہیں کہ جنگی ضروریات کے تحت خاص حکم ہے کہ دشمن کے خلاف کاروائی کامیاب
کرانے کی خاطر تخریب ناگزیر ہوتوکی جاسکتی ہے۔[47] اس
حکمت عملی کے نتیجے میں دشمن نے مسلمانوں سے صلح کرلی اور ہتھیار ڈال دیئے۔[48]
خلاصہ
کلام:
گذشتہ
صفحات کے مطالعے سے نتیجہ نکلتاہے کہ رسول اللہﷺ کی حکمت عملی تھی کہ دشمن کو مکمل
تباہ کرنے کے بجائے اس طرح خوفزدہ کیاجائے کہ اسلامی فوجوں کے ڈر کے سبب سے وہ
کوئی اقدامی کاروائی نہ کرسکے۔ اس مقصد کےلیے فوج کی حتی الامکان جلدنقل وحرکت اور
سدِرسد ضروری ہیں۔ اس کےعلاوہ دشمن کے افسروں اور جوانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے
ہرحربہ استعمال کیاجائے اورعسکری میدان میں اترنے سے قبل ان کے اندر عسکری جذبہ
ختم ہوجائے۔اگردوبدومقابلہ لازم ہوجائے توعسکری حکمت عملی سادہ رکھی جائے اور لشکر
کو اس طرح ترتیب دی جائے کہ فوج کاکچھ نہ کچھ حصہ محفوظ رہےاور ہنگامی حالت میں
نمٹنے کے کام آئے۔ فوجی نقل وحرکت رات میں ہی کی جائے۔ دشمن کی طاقت کو ایک جگہ
مجتمع نہ ہونے دیا جائے اور ایک وقت میں ایک ہی محاذ کی طرف توجہ دی جائے۔دشمن کے
شکست کھانے کی صورت میں اس کاایک حد تک تعاقب کیا جائے۔سب سے اہم اورسرفہرست امر
یہ ہےکہ حتی الامکان جنگ سے پرہیز کیا جائے اور صلح وخیر کی کوشش کی جائےکیونکہ
تاریخ کے مطابق امن کی راہیں میدانِ جنگ سے ہوکر گزرتی ہیں۔
پاک
فوج کے لیے اسباق
گذشتہ سطور کے مقابلے سے افواج پاکستان کے لیے درج ذیل
اسباق سامنے آتے ہیں۔
الف۔ افسروں اور
جوانوں دونوں ہی کی دینی اور جسمانی تربیت پرتوجہ دی جائے تاکہ وہ دشمن کی مادی
برتری اور کثرت تعدا د کو کسی خاطر میں نہ لائیں۔
ب۔ فوج کی تربیت
ہرطرح کےجغرافیائی حالات میں ہوتاکہ ایک محاذ سے دوسرے محاذ پر منتقل ہونے کی صورت
میں وہ آسانی سے خود کو نئے ماحول اور حالات میں تبدیل کرسکیںَ
ج۔ فوج کی اگلے
مورچوں کی طرف پیش قدمی کی صورت میں عقب کو خالی نہ چھوڑا جائے نیزچھاؤنیوں اور
شہرمیں بھی کچھ افراد تعینات ہوں جوانتظامی معاملات کے علاوہ دفاعی اقدامات بھی
کرسکیں۔
د۔ دشمن کی نقل
وحرکت سے بروقت مطلع ہونےکے لیے دشمن کی صفوں میں لوگوں کو تلاش کیا جائے۔
ھ۔ فوجی افسران
وجوانوں کاانتخاب کرتے وقت چھان بین سخت ہوتاکہ دشمن یااس کاکوئی حلیف فوج میں
داخل نہ ہوسکے۔
و۔ دشمن کی معلومات
کےلیے سرحدوں پر ایسے دستے تعینات ہوں جوکسی فوجی مداخلت کاجواب دینے اوراقدامی
کاروائی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ز۔ عسکری حکمت
عملی فوج کی حربی صلاحیتوں کے مطابق ہو اور نہایت سادہ،قابل فہم اور قابل عمل ہو۔
ح۔ محاذ جنگ
کووسیع نہ کیا جائے بلکہ اتناہی محدودہوکہ حالت جنگ میں قابو میں رکھاجاسکے۔
ط۔ کم سے کم
فوجی قوت کے ساتھ دشمن کو مصروف رکھاجائے اور گائے بگائے اندرون ملک عسکری کاروائی
کی جائے تاکہ ایک محاذ پر جنگی قوت جمع نہ کرسکے۔
ی۔ عسکری مشن کا
ایک مناسب حصہ محفوظ رکھا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر مطلوبہ جگہ روانہ کردیاجائے۔
ت۔ دشمن کی فوج
کو ہرمرحلے میں زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔
ث۔ عسکری تربیت
کےلیے رات کا وقت مقرر کیا جائے اورتن آسان افراد کو فوج کاحصہ بنانے سے اجتناب
کیاجائے۔
خ۔ عسکری سامان
کے سلسلے میں خودکفیل بناجائے۔
ذ۔ حالت جنگ
میں نفسانی حربے استعمال کیے جائیں اوردشمن پر دباؤ رکھا جائے تاکہ اسے زیادہ
سےزیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔
[3] Saeed Uz Zafar, Brigadier, “ Junior Leadership in the Army”, Pakarmy Green
Book, 1990, Lahore Feroz Sons Limitedm 1990, p31
[25] دہلوی،علامہ عبدالحق،"مدارج النبوۃ"،مترجم غلام
معین الدین نعیمی،کراچی، مدینہ پبلشنگ کمپنی،1970ء،ج2،ص588

Comments
Post a Comment